1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان سے متعلق بیان، کیمرون تنقید کی زد میں

بھارت میں پاکستان سے متعلق متنازعہ بیانات دینے پر برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون پر ان کے اپنے ملک میں بھی تنقید کی جارہی ہے۔

default

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون دورہ ء بھارت کے موقع پر

مختلف برطانوی اخبارات نے نو منتخب وزیر اعظم کے اس قسم کے متنازعہ بیانات کو ان کی ناتجربہ کاری سے تعبیر کیا ہے۔ 43 سالہ کیمرون نے رواں سال مئی میں برطانیہ کی موجودہ اتحادی حکومت میں وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے امریکہ اور بھارت کے بطور وزیر اعظم اولین دورے کئے۔

سابق برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کیمرون کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے گزشتہ ہفتے خارجہ پالیسی سے متعلق ایسے بیان دیے جن سے گڑ بڑ پیدا ہوئی ہے۔ ملی بینڈ کے مطابق بہتر ہوتا کہ برطانوی وزیر اعظم پاکستان کی مدد کرنے کے امکانات پر بات کرتے۔

Pressekonferenz zu Kämpfen um die Taliban-Hochburg Kotkai

پاکستانی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے صدر زرداری کے دورء برطانیہ اور فرانس کی تصدیق کردی ہے

بھارتی شہر بنگلور میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران برطانوی وزیر اعظم نے پاکستان کی جانب سے ’’دہشت گردی برآمد کرنے‘‘ اور آئی ایس آئی کے طالبان کے ساتھ مبینہ رابطوں کی مذمت کی تھی۔ اس دورے میں کیمرون نے بھارت کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے کی ضرورت کو اجاگر کیا تھا اور اپنے ساتھ سینیئر وزراء اور ایک بڑا تجارتی وفد لے کر ایشیاء کی اس ابھرتی معاشی طاقت کے دورے پر گئے تھے۔

کیمرون کے معاونین کی جانب سے بعد میں اس بیان کے متلعق یہ وضاحت پیش کی گئی کہ اس میں غیر حکومتی عناصر کی جانب اشارہ تھا، براہ راست اسلام آباد حکومت کی جانب نہیں۔ البتہ وزیر اعظم کیمرون نے بذات خود اس بیان کی وضاحت پیش نہیں کی۔

پاکستان میں ان دنوں سیلاب سے متعلق خبریں شہ سرخیوں میں ہیں تاہم سیاسی حلقوں میں کیمرون کے بیان پر اب بھی لے دے ہورہی ہے۔ پاکستانی پنجاب کے شہر قصور میں صحافیوں سے بات چیت میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا، ’’ کیمرون کو کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا بھی ذکر کرنا چاہیے تھا۔‘‘ واضح رہے کہ بھارتی زیر انتظام کشمیر کے بیشتر شہروں میں کرفیو نافذ ہے اور گزشتہ کچھ دنوں میں بیس سے زائد حکومت مخالف مظاہرین مبینہ طور پر پولیس کی شیلنگ سے ہلاک ہوگئے ہیں۔

BIldergalerie Flüchtlingskrise im Swattal Asif Ali Zardari

صدر زرداری رواں ہفتے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی سے ملیں گے

دریں اثنا ملک کے اندر اپوزیشن جماعتوں کی مخالفت کے باوجود پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے دورہ ء برطانیہ کی تصدیق کردی ہے۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کے مطابق، ’’ صدر زرداری نئی پاکستانی حکومت کی پالیسی سے متعلق حقائق واضح کریں گے۔‘‘ لندن میں پریس کانفرنس سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا نے لندن کا دورہ ذاتی ذمہ داریوں کے باعث منسوخ کیا ہے تاہم دونوں ملکوں کے مابین انٹیلیجنس کے شعبے میں تعاون جاری رہے گا۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : افسر اعوان

DW.COM