1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان سے جنگ کے پیغامات مل رہے ہیں، اشرف غنی

افغان صدر اشرف غنی نے دارالحکومت کابل میں ہونے والے حالیہ سلسلہ وار حملوں پر ہمسایہ ملک پاکستان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ آج بروز پیر کابل میں ایک اور خود کش حملہ ہوا، جس میں پانچ افراد مارے گئے ہیں۔

default

کابل میں پے در پے حملوں میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 56 تک ہہنچ چکی ہے

افغان صدر اشرف غنی نے کابل میں ہونے والے حالیہ حملوں کے تناظر میں پیر دس اگست کو کہا، ’’ہم قیام امن کی امید کر رہے تھے لیکن پاکستان سے ہمیں جنگ کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔‘‘ افغان طالبان کے کمانڈر ملا عمر کی موت کی اطلاع کے بعد کابل میں پہلی مرتبہ خونریز حملے جمعے کے دن ہوئے۔ اس کے بعد گزشتہ چار دنوں میں ہونے والے پے در پے حملوں میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 56 تک ہہنچ چکی ہے جبکہ سینکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

DW.COM

افغان صدر اشرف غنی نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’گزشتہ کچھ دنوں کے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خود کش بمباروں کی تربیت گاہیں اور بم بنانے کی فیکٹریاں، جو ہمارے عوام کو قتل کرنے کا باعث بن رہی ہیں، پاکستان میں اب بھی ویسے ہی فعال ہیں، جیسا کہ پہلے تھیں۔‘‘ طالبان اور کابل حکومت کے مابین حالیہ مذاکراتی عمل کے حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ کابل حکومت امن کی امید کر رہی تھی لیکن پاکستان سے جنگ کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔

یہ امر اہم ہے کہ گزشتہ برس صدارت کے منصب پر فائز ہونے والے اشرف غنی نے پہلی مرتبہ پاکستان کے خلاف اتنا سخت بیان دیا ہے۔ صدر بننے کے بعد غنی کی کوشش تھی کہ پاکستانی حکومت افغانستان میں قیام امن کے لیے اہم کردار ادا کرے اور افغان طالبان اور کابل حکومت کے مابین مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے معاونت فراہم کرے۔ تاہم اپنے تازہ نشریاتی بیان میں انہوں نے مزید کہا، ’’ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ہماری مدد کرے۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اپنی سرزمین پر طالبان کی کارروائیاں روک دے۔‘‘

پیر کے دن کابل کے ہوائی اڈے کے نزدیک ہونے والے تازہ خود کش حملے کے بعد غنی نے اسلام آباد پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کے خلاف اپنے کریک ڈاؤن کو مؤثر بنائے۔ اپنے نشریاتی بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا، ’’ہم جانتے ہیں کہ وہاں (پاکستان میں طالبان کے کے لیے ) محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ عناصر وہاں فعال ہیں۔ ہم چاہتے کہ وہاں ایسی تمام تر کارروائیوں کا خاتمہ کر دیا جائے۔‘‘

Afghanischer Präsident Ghani besucht Streitkräfte in Herat

’ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ہماری مدد کرے۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اپنی سرزمین پر طالبان کی کارروائیاں روک دے۔‘ اشرف غنی

افغان صدر کا مزید کہنا تھا کہ اتوار کے دن انہوں نے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف سے ٹیلی فون پر گفتگو میں میں کہا کہ وہ افغانستان میں ہونے والی دہشت گردی کو ویسے ہی محسوس کریں، جیسا کہ وہ پاکستان میں ایسی کارروائیوں کے بارے میں کرتے ہیں، ’’میں نے انہیں کہا اگر کابل میں (جمعے کے دن) شاہ شہید میں ہونے والا قتل عام کا واقعہ اگر اسلام آباد میں رونما ہوتا تو وہ کیا کرتے؟‘‘

یہ امر اہم ہے کہ پاکستان اور طالبان کے روابط تاریخی نوعیت کے قرار دیے جاتے ہیں اور بہت سے افغان الزام عائد کرتے ہیں کہ پاکستان میں موجود طالبان کی محفوظ پناہ گاہوں کا مقصد افغانستان میں اپنا اثرورسوخ قائم کرنا ہے۔