1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان سے تین ملین افغان مہاجرین دسمبر تک واپس، صوبائی وزیر

پاکستان اپنے اس نئے ہدف پر کاربند رہے گا، جس کے تحت ملک میں موجود قریب تین ملین افغان مہاجرین کو سال کے آخر تک واپس ان کے وطن بھیج دیا جائے گا۔ یہ بات صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات مشتاق غنی نے بتائی۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے جمعہ یکم جولائی کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق مشتاق غنی نے کہا کہ تیس لاکھ کے قریب یہ افغان مہاجرین اب پاکستان میں نہیں رہ سکتے۔ اس موقف کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان نے انسانی اور مہاجرین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں کے وہ مطالبات مسترد کر دیے ہیں، جن میں ان مہاجرین کو کم از کم 2017ء کے آخر تک پاکستان میں قیام کی اجازت دینے کا ذکر کیا گیا تھا۔

پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا میں، جہاں ان افغان مہاجرین کی بہت بڑی اکثریت آباد ہے، صوبائی وزیر اطلاعات مشتاق غنی نے کہا، ’’اب ہم ان مہاجرین کی مزید میزبانی نہیں کر سکتے۔‘‘

ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ اس بات کو پاکستان میں حالیہ چند برسوں کے دوران افغان مہاجرین سے متعلق مقامی آبادی میں زیادہ سے زیادہ واضح ہوتے گئے رجحان کی بازگشت ہی کہا جا سکتا ہے کہ مشتاق غنی کے مطابق، ’’یہ (افغان مہاجرین) ہماری معیشت پر بوجھ ہیں۔‘‘ غنی نے بتایا کہ ایسا طریقہ کار وضع کیا جا رہا ہے، جس کے تحت اس سال دسمبر تک ان مہاجرین کو واپس ان کے ملک بھیجا جا سکے۔

پاکستان میں مہاجرین کے طور پر افغان باشندوں کی آمد 1979ء میں اس وقت شروع ہوئی تھی، جب وہاں (اس وقت سابق) سوویت یونین کی فوجی مداخلت کے بعد وسیع تر نقل مکانی اور ترک وطن کا رجحان شروع ہوا تھا۔ اس دور کے مہاجرین اور بعد میں آنے والے افغان باشندوں سمیت پاکستان ابھی تک اپنے ہاں 2.7 ملین افغانوں کو پناہ دیے ہوئے ہے۔

Afghanische Flüchtlinge in Pakistan Abdur Rashid

قریب پندرہ لاکھ افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کی مدت میں پاکستانی حکومت نے صرف چھ ماہ کی توسیع کی ہے

ان میں سے تقریباﹰ 1.5 ملین مہاجرین کے طور پر رجسٹرڈ ہیں، جنہیں حکومت نے ان کی رجسٹریشن کے ثبوت کے طور پر PoR کہلانے والے کارڈ بھی جاری کر رکھے ہیں۔ باقی ماندہ 1.2 ملین مہاجرین وہ ہیں، جن کی کوئی رجسٹریشن نہیں ہوئی اور جنہیں حکومت غیر قانونی مہاجرین قرار دیتی ہے۔

رجسٹرڈ مہاجرین کو پاکستان نے جو پروف آف رجسٹریشن کارڈ جاری کر رکھے ہیں ، ان کی گزشتہ مدت کل 30 جون کو پوری ہو گئی تھی اور توسیع نہ کیے جانے کی صورت میں ان مہاجرین کی ملک بدری قانوناﹰ جائز ہوتی۔ لیکن جیسا کہ توقع کی جا رہی تھی، اسی ہفتے 29 جون کو حکومت نے اعلان کر دیا تھا کہ ان کارڈوں کی مدت میں ایک بار پھر چھ ماہ کی توسیع کر دی گئی ہے۔

اس طرح ان مہاجرین کو امید ہو گئی تھی کہ ان کی رجسٹریشن کے عرصے میں ایک بار پھر اگر ایک ششماہی کے لیے توسیع کر دی گئی ہے تو غالباﹰ اس مدت میں آئندہ بھی اس طرح توسیع کی جاتی رہے گی، جیسا کہ ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے۔

تاہم پشاور حکومت کے وزیر اطلاعات کا یکم جولائی کا بیان نہ صرف ان لاکھوں افغان مہاجرین کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو گا بلکہ ساتھ ہی یہ اشارہ بھی کہ چھ ماہ کی نئی توسیعی مدت کے اختتام سے پہلے اب ان مہاجرین کو پاکستان سے نکال دیا جائے گا۔

Afghanistan Flüchtlinge an der Grenze zu Pakistan

پاکستان میں افغان مہاجرین کی آمد قریب چار عشرے قبل افغانستان میں سوویت یونین کی فوجی مداخلت کے بعد شروع ہوئی تھی

قبل ازیں انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے جمعے ہی کے روز پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان مہاجرین کے قیام کی مدت 31 دسمبر 2017ء تک بڑھا دے تاکہ انہیں مقامی پولیس کی طرف سے ہراساں کیے جانے، دھمکیوں اور مالی استحصال سے بچایا جا سکے۔

ڈی پی اے کے مطابق اسلام آباد میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ مقامی آبادی میں پائی جانے والی بے روزگاری اور غربت کی قیمت پر ان افغان مہاجرین کو کوئی رعایات نہیں دے سکتے۔

پاکستان میں افغان مہاجرین سے متعلقہ امور کے نگران ریاستی اور سرحدی علاقوں کے وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ کے مطابق ملک میں روزگار کے کم از کم ایک ملین مواقع پر اس وقت افغان باشندے قابض ہیں، جس کی کوئی قابل قبول وضاحت نہیں کی جا سکتی۔

DW.COM