1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان سے تعلقات کا نیا باب شروع ہو رہا ہے: کلنٹن

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے اپنے پاکستانی ہم منصب کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دورےکا مقصد پاکستان اور اس کے عوام کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔

default

امریکہ پاکستان اور اس کے عوام کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے باب کا آغازکر رہا ہے

بدھ کے روز ہلیری کلنٹن نے دارالحکومت اسلام آباد میں نے پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کے بعد کہا کہ ماضی کی طرح اب پاک امریکہ تعلقات صرف سلامتی کے موضوعات تک ہی محدود نہیں رہیں گے بلکہ ان میں صحت، تعلیم اور توانائی سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کو بھی شامل کیا جائے گا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج کے کردار کو سراہتے ہوئے ہیلری کلنٹن نے کہا کہ پاکستان اس جنگ میں اکیلا نہیں بلکہ امریکہ بھی اس کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

’’اس وقت دنیا کو انتہائی نازک صورتحال کا سامنا ہے اور ایسے وقت میں امریکی انتظامیہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ایک نئی جہت دینا چاہتی ہے۔ یہ تعلقات صرف حکومتی سطح تک محدود نہیں ہوں گے بلکہ براہ راست پاکستانی عوام کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں کی جائے گی۔‘‘

Pakistans Aussenminister Shah Mahmood Qureshi

’’یہ ایک اہم پیش رفت ہے کہ امریکہ نے حکومتی سطح سے عوامی سطح پر تعلقات کو بہتر بنانے کی حکمت عملی اپنائی ہے ’’

ہیلری کلنٹن نے کہا کہ ان کی پاکستانی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات میں پاک امریکہ سٹریٹجک مذاکرات کی بحالی پر بھی اتفاق کیا گیا ہے اور ان مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کےلئے وہ خود امریکہ کی نمائندگی کریں گی۔ امریکی وزیرخارجہ نے توانائی کے بحران پر قابو پانے کےلئے پاکستان بھر میں قائم بجلی گھروں کی استعداد بڑھانے کےلئے ان کی مرمت کے ساتھ ساتھ تربیلا ڈیم پر بجلی پیدا کرنے کے نئے آلات نصب کرنے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ آبپاشی کے لئے پاکستان میں نصب دس ہزار ٹیوب ویلوں کی مرمت اور تبدیلی کا پروگرام بھی شروع کرے گا، جس سے بقول ان کے توانائی کی بچت کے علاوہ زراعت پر بھی مثبت اثرات پڑیں گے۔

پاک افغان سرحد پر قائم امریکی چوکیوں کے مقام میں ردوبدل سے متعلق ایک سوال پر ہیلری کلنٹن نے کہا کہ یہ بندوبست دفاعی حکمت عملی کے تحت کیا گیا ہے البتہ ان کے بقول امریکہ اس معاملے کو پاکستانی فوج کے ساتھ مشاورت سے حل کرنے کو تیار ہے۔ اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، امریکی وزیر خارجہ کا دورہ انتہائی اہم ہے اور اس سے دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط ہوں گے۔

’’یہ ایک اہم پیش رفت ہے کہ امریکہ نے حکومتی سطح سے عوامی سطح پر تعلقات کو بہتر بنانے کی حکمت عملی اپنائی ہے اور امریکہ اس حکمت عملی کے تحت پاکستانی عوام کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا چاہتا ہے۔‘‘

دریں اثناء امریکی وزیر خارجہ نے بدھ ہی کے روز وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے بھی ملاقات کی اور پاک امریکہ تعلقات کے علاوہ خطے کی موجودہ صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پر تبادلہ خیال کیا۔

رپورٹ : شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM