1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان سے ترک اساتذہ کی ملک بدری کی وجوہات سیاسی، ایمنسٹی

پاکستانی حکومت کے درجنوں ترک اساتذہ کی ملک بدری کے حکم پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ نواز شریف حکومت نے یہ قدم ’سیاسی وجوہات‘ کی بنا پر اٹھایا ہے۔

اسلام آباد سے جمعرات سترہ نومبر کو موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے دورہٴ پاکستان کے موقع پر پاکستانی حکومت کے اسی فیصلے کے خلاف ملک کے چند بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔

پاکستانی حکام نے کل بدھ سولہ نومبر کو تصدیق کر دی تھی کہ حکومت نے پاکستان میں کام کرنے والے پاک ترک اسکولوں کے 130 اساتذہ اور ان تعلیمی اداروں کے عملے کے دیگر ارکان کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ بیس نومبر یعنی آئندہ اتوار کے دن تک ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ جن ترک شہریوں کو پاکستان سے چلے جانے کے لیے کہا گیا ہے، ان کی مجموعی تعداد 450 کے قریب بنتی ہے۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ نجی شعبے میں کام کرنے والے پاک ترک انٹرنیشنل اسکولوں کے ان اساتذہ اور کارکنوں کو اس لیے پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے کہ ان کے پیچھے مبینہ طور پر امریکا میں مقیم ترک مبلغ فتح اللہ گولن اور ان کی تنظیم خدمت گروپ کا ہاتھ ہے۔

انقرہ حکومت کا الزام ہے کہ ترکی میں اس سال جولائی میں صدر ایردوآن کی انتظامیہ کے خلاف ناکام رہنے والی فوجی بغاوت مبینہ طور پر فتح اللہ گولن کے ایما پر کی گئی تھی۔

گولن اپنے خلاف اس الزام کو مسترد کرتے ہیں لیکن اسی سلسلے میں انقرہ حکومت نے امریکا سے گولن کو ملک بدر کر کے ترکی کے حوالے کیے جانے کی درخواست بھی کر رکھی ہے۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ پاکستان سے پاک ترک اسکولوں کے عملے کے سینکڑوں افراد کی ملک بدری کے اس حکومتی حکم پر ملکی میڈیا نے بھی کھل کر تنقید کی ہے جبکہ اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں بھی، جہاں ایسے کئی اسکول قائم ہیں، سینکڑوں مقامی طلبا و طالبات نے اس حکومتی فیصلے کے خلاف احتجاج بھی کیا۔

ملک بدری کے اس حکم کے بارے میں پاک ترک اسکولوں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس طرح ان تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم قریب 10 ہزار تک طلبا و طالبات متاثر ہوں گے۔

Bildkombo Recep Tayyip Erdogan und Fethullah Gülen (Links: picture-alliance/dpa/AP/Pool // Rechts: Reuters/Handout)

فتح اللہ گولن، دائیں، اور ترک صدر رجب طیب ایردوآن

اس بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے آج کہا کہ اسلام آباد حکومت کا ترک اساتذہ کی ملک بدری کا حکم ’سیاسی وجوہات‘ کی بنا پر کیا جانے والا ایک فیصلہ ہے، جس سے ’صرف پاکستانی بچوں‘ ہی کو نقصان پہنچے گا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جنوبی ایشیا کے لیے علاقائی ڈائریکٹر شمپا پاٹل نے آج اپنے ایک بیان میں کہا، ’’پاکستان کو جس بات کی ضرورت ہے، وہ زیادہ اسکول اور کلاس رومز ہیں، نہ کہ سیاسی وجوہات کی بنا پر کیا جانے والا ایک ایسا فیصلہ، جس کے تحت ترک حکومت کے ایماء پر پاکستان سے ماہرین تعلیم کو نکالا جا رہا ہے۔‘‘

DW.COM