1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’پاکستان سے ایغور عسکریت پسندوں کا صفایا کر دیا گیا ہے‘

پاکستان نے اپنی سرزمین پر سے ایغور عسکریت پسندوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پاکستانی وزیر دفاع نے یہ دعویٰ چینی دارالحکومت بیجنگ میں کیا۔

default

سنکیانگ کے شہروں میں سکیورٹی الرٹ ہے

خواجہ آصف نے بیجنگ میں رپورٹرز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایغور شدت پسندوں کے گروپ مشرقی ترکمانستان اسلامی تحریک (ETIM) کا کوئی بھی رکن اب پاکستانی سرزمین پر موجود نہیں کیونکہ حکومتی عسکری آپریشن کے ذریعے اِن عسکریت پسندوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ کڑی نگرانی کی گئی ہے کہ کہیں یہ عسکریت پسند دوبارہ پاکستانی علاقوں میں اپنے اڈے قائم نہ کر لیں۔

بیجنگ میں جاری ایک سکیورٹی فورم کے حلقے میں پاکستانی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ذرائع ابلاغ کے نمائدوں کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ انہیں یقین ہے کہ پاکستان سے تقریباً سبھی ایغور عسکریت پسندوں کا صفایا کیا جا چکا ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ ایک انتہائی قلیل تعداد قبائلی علاقوں میں چھپی ہو سکتی ہے لیکن وہ بھی پوری طرح مفلوج خیال کی جاتی ہے۔ آصف نے واضح انداز میں کہا کہ اِن کے علاوہ سنکیانگ کی ETIM کے عسکریت پسند پاکستان میں کہیں نہیں ہیں۔

China Jahrestag Unruhen in Xinjiang Moschee Freitagsgebet in Urumqi

سنکیانگ ایغور نسل کے مسلمانوں کا وطن ہے

خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ ETIM کے خلاف لڑائی پاکستان کی اپنی بھی ہے اور یہ صرف چین کا مسئلہ یا جنگ نہیں ہے۔ ان کے خیال میں مشرقی ترکمانستان اسلامی تحریک کے خلاف لڑائی دونوں ملکوں کی مشترکہ لڑائی ہے۔ پاکستانی وزیر دفاع کے مطابق اِس مسئلے پر بیجنگ اور اسلام آباد کی حکومتوں میں کوئی اختلافِ رائے موجود نہیں ہے اور دونوں حکومتیں پاکستانی قبائلی علاقے میں سنکیانگ کے عسکریت پسندوں کی موومنٹ ETIM کے مسلح جہادیوں یا کارکنوں کی موجودگی برداشت نہیں کریں گی۔ اُدھر سنکیانگ کی مقامی حکومت کا خیال ہے کہ اسلام آباد حکومت ایغور جہادیوں کے خلاف مناسب کارروائی نہیں کر رہی ہے کیونکہ انہیں تربیت وہیں سے حاصل ہوتی ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ چین کا کہنا ہے کہ اُس کے مغربی علاقے سنکیانگ میں مسلمان عسکریت پسندی کی مسلح تحریک کا سلسلہ ETIM نے شروع کر رکھا ہے۔ سنکیانگ ایغور نسل کے مسلمانوں کا وطن ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ وہ چین سے اپنے مذہب، زبان و ادب، کلچر اور تہذیب کے تحفظ کے ساتھ ساتھ زیادہ آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ایغور لوگوں کی بین الاقوامی تنظیم کے مطابق چین ایک منظم پلاننگ کے تحت اُن کی نسل کشی کے علاوہ ایغور تہذیب و ثقافت کو مٹانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے اور ہان نسل کے چینیوں کو مالی مراعات دے کے ساتھ آباد کیا جا رہا ہے۔

عابد حسین

کشور مصطفیٰ

DW.COM