1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

پاکستان سے افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کا ایک بار پھر آغاز

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کا سلسلہ پھر سے شروع کردیا ہے۔ ملک بھر سے رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو متعلقہ مراکز میں رجسٹریشن کے بعد افغانستان روانہ کیا جا رہا ہے۔

Afghanistan Flüchtlinge Registrierung

افغان مہاجرین کو رجسٹریشن کے بعد افغانستان روانہ کیا جاتا ہے

پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے نے ملک میں عید الاضحیٰ کی چھٹیوں کے دوران مہاجرین کی واپسی کا سلسلہ بند کر رکھا تھا۔ یو این ایچ سی آر کے مطابق رواں سال پاکستان کے مختلف شہروں سے ایک لاکھ بارہ ہزار افغان مہاجرین رضاکارانہ طور پر اپنے وطن لوٹ چکے ہیں۔ افغانستان واپس لوٹنے والے مہاجر کو یواین ایچ سی آر کی جانب سے چار سو ڈالر فی کس نقد رقم کے علاوہ اشیائے خورد و نوش اور ضرورت کی دیگر اشیاء فراہم کی جاتی ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی مختلف سیاسی جماعتو ‍ں کے درمیان افغان مہاجرین کی واپسی کے حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ صوبے میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف افغان مہاجرین کی فوری واپسی کے حق میں ہے جبکہ اس کی اتحادی جماعتیں قومی وطن پارٹی اور جماعت اسلامی کے درمیان افغان مہاجرین کی واپسی کے حوالے سے تحفظات پائے جاتے ہیں۔

Afghanistan Flüchtlinge

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی مختلف سیاسی جماعتو‍ں کے درمیان افغان مہاجرین کی واپسی کے حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں

ملکی سطح پر پارلیمانی سیاسی جماعتو‌ں کے نمائندوں کا افغان مہاجرین کے حوالے سے قومی حکمت عملی تشکیل دینے کیلئے اکیس ستمبر کو ایک اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں چاروں صوبوں کی سیاسی جماعتوں، افغانستان اوراقوامِ متحدہ کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اجلاس میں اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ پاکستان اور بالخصوص خیبر پختونخوا ہ میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہ ہونے پائے۔ ان غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کو اگلے ماہ سولہ تاریخ کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے جسکے بعد ایسے افغان مہاجرین کے خلاف کاروائی کی جائیگی۔

تاہم بعض سیاسی جماعتیں افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاون کی مخلفت کرتی ہیں۔ قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کا ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’پاکستان نے افغان مہاجرین کو یہاں خوش آمدید کہا تھا۔ ملک بھر اور بالخصوص پختونخواہ کے عوام نے انہیں چالیس سال تک برداشت کیا اور انکے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ اب ان کی واپسی بھی باعزت طریقے سے ہونی چاہیئے تاکہ دونوں ممالک کا بھائی چارہ قائم و دائم رہے۔‘‘

افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈوان کے بعد مہاجرین کے عمائدین پرمشتمل کمیٹی نے گورنر پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ، عمران خان اور کئی دیگر سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتوں میں یہاں مقیم افغان مہاجرین کے حوالے سے آٹھ نکاتی ایجنڈا انکے سامنے رکھا۔ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں پختونخواہ میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کے خلاف کاروائی روک دی گئی۔ افغان مہاجرین کے حوالے سے عمائدین کے مطالبات میں سرفہرست غیر رجسٹرڈ مہاجرین کی رجسٹریشن اور یہاں کاروبار کرنے والوں کو تحفظ کی فراہمی کے ساتھ ساتھ طلبا و طالبات سمیت علاج معالجے کیلئے آنیوالوں کو خصوصی رعایت دینا ہیں۔

Afghanistan Flüchtlinge

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق یہاں سولہ لاکھ افغان مہاجرین موجود ہیں

قبائلی امور کے ماہر اور تجزیہ نگار گوہر علی خان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’اس کریک ڈاؤن کی وجہ سے افغانستان میں پاکستان کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے۔ پہلے افغانستان میں مخصوص لوگ پاکستان کے خلاف تھے لیکن یہاں سے زبردستی نکالے جانیوالے لوگ بھی اب انکا ساتھ دے رہے ہیں۔ افغان مہاجرین کی واپسی میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے سے الگ نہیں تاہم کئی قوتیں ایسی ہیں جو دونوں کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشیش کررہی ہیں۔ پاکستان کو یہی بات ذھن میں رکھنی چاہیئے۔‘‘

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق یہاں سولہ لاکھ افغان مہاجرین موجود ہیں جبکہ ایک ملین سے زیادہ افغان شہری غیر قانونی طور پر پاکستان میں رہائش پذیر ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہزاروں افغان باشندوں نے جعلی پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کر رکھے ہیں۔ خیبر پختونخواہ کے محکمہء داخلہ نے ایسے ایک ہزار افغان باشندوں کے بارے میں نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن کو تفصیل فراہم کرتے ہوئے مذکورہ شناختی کارڈ بلاک کرنے کا کہا ہے۔

DW.COM