1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاکستان سپر لیگ کا ٹائٹل پشاور زلمی کے نام

پاکستان سپر لیگ کے فائنل میچ میں پشاور زلمی نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کواٹھاون رنز شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کر لیا ہے۔ لاہور میں اس میچ کے انعقاد پر ایک میلے کا سماں برقرار رہا۔

پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کا ٹائٹل پشاور زلمی نے اپنے نام کر لیا ہے۔ اتوار کے دن لاہور میں کھیلے گئے اس میچ میں کوئٹہ کی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ پشاور نے اس ٹی ٹوئنٹی میچ میں مقررہ اوورز میں 148 رنز بنائے اور اس کے چھ کھلاڑی آؤٹ ہوئے۔

پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں جوش و خروش عروج پر

پی ایس ایل کا فائنل: سکیورٹی انتہائی سخت

دوسری ’پاکستان سپر لیگ‘ کے ہنگامہ خیز میچ شروع ہونے کو

پشاور کی ٹیم میں وکٹ کیپر بلے باز کامران اکمل نمایاں بلے باز رہے، جنہوں نے بتیس گیندوں پر چالیس رنز بنائے۔ اگرچہ کامران اکمل کے آؤٹ ہونے کے بعد پشاور کی ٹیم کو شاہد آفریدی کی کمی شدت سے محسوس ہوئی لیکن کپتان ڈیرن سامی نے اختتامی اوورز میں انتہائی شاندار انداز میں کھیلتے ہوئے اپنی ٹیم کا مشکل سے نکالا۔ انہوں نے گیارہ گیندوں پر اٹھائیس رنز بنائے۔

شاہد آفریدی انجری کے باعث یہ فائنل میچ نہ کھیل سکے لیکن وہ میچ کے دوران اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ جیسے ہی کوئٹہ کی ٹیم کا آخری کھلاڑی آؤٹ ہوا، تو دیگر کھلاڑیوں سمیت شاہدی آفریدی بھی ڈریسنگ روم سے نکل کر خوشی سے گراؤنڈ کی طرف دوڑ پڑے۔

Pakistan Super League Cricket Finale in Lahore (DW/T. Saeed)

اس میچ کے دوران لاہور میں سکیورٹی انتہائی الرٹ تھی

کوئٹہ کی ٹیم اس فائنل میچ میں کوئی خاص کارکردگی نہ دکھا سکی اور پوری ٹیم سترہویں اوور میں نوّے کے مجموعی اسکور پر ڈھیر ہو گئی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی قرار دی جا رہی ہے کہ کوئٹہ ٹیم کے غیر ملکی کھلاڑی اس میچ میں شرکت کے لیے لاہور نہ آئے۔

لاہور میں اتوار کے دن ایک میلے کا سماں تھا جبکہ سکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ پشاور زلمی کے غیر ملکی کھلاڑی جب میدان میں اترے تو شائقین نے ان کا دل کھول کر استقبال کیا۔ بالخصوص سامی جب بلے بازی کی خاطر کریز پر آئے تو شائقین نے انہیں زبردست طریقے سے داد دی۔

پاکستان سپر لیگ کے اس فائنل میچ کے لاہور میں منعقد کرائے جانے پر اب امید پیدا ہوئی ہے کہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی جلد ہو سکتی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس میچ کے کامیاب انعقاد سے پاکستان نے دہشت گردی کو مات دے دی ہے۔

DW.COM