1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاکستان سپر لیگ زور پکڑتی ہوئی

متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں پاکستان سپر لیگ اپنی تمام تر رنگینیوں اور رعنائیوں کے ساتھ چوتھے دن میں داخل ہوگئی ہے۔

ویک اینڈ پر شاندار افتتاحی تقریب سے شروع ہونے والی پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) پانچ یکطرفہ میچوں کے بعد اب زور پکڑ رہی ہے۔ اتوار کو اسلام آباد یونائٹڈ نے ٹورنامنٹ کی سب مہنگی ٹیم کراچی کنگز کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد تین رنز سے ہرا کر ٹورنامنٹ میں اپنی پہلی کامیابی حاصل کی۔

DW.COM

اس میچ کا فیصلہ آخری گیند پر اس وقت ہوا جب کراچی کے روی بوپارہ، شین واٹسن کو چوکا لگانے میں ناکام رہے۔ اس سے پہلے تین دن میں میچز دلچسپی سی خالی تھے۔

اسپنرز کا راج

تیل سے مالا مال امارات کی سرزمین پر بولنگ کرنے والے اسپنرز وکٹوں سے مالا مال ہو رہے ہیں۔ پی ایس ایل کے ابتدائی چھ میچوں میں اسپنرز نے بیٹسمینوں کی ایسی درگت بنائی کہ اب تک چھ میں سے چار میچوں میں مین آف دی میچ کا اعزاز اسپنرز کو ہی ملا ہے۔

ان میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے محمد نواز، پشاور زلمی کے محمد اصغر اور اسلام آباد یونائٹڈ کے سعید اجمل بھی شامل ہیں، جنہوں نے چار اوورز میں تین تین وکٹیں لیں۔

چوکوں چھکوں کی بارش کا انتظار

ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ چوکے چھکوں کا دوسرا نام ہے۔ پی ایس ایل میں اب تک پہلے چھ میچوں میں لگنے والے اکتالیس چھکوں کو کم قرار دیا جا رہا ہے۔

ٹورنامنٹ میں تک پہلے بیٹنگ کرنے والی کوئی ٹیم ڈیڑھ سو کا ہندسہ عبور نہیں کر سکی اور کراچی کنگر کوئٹہ کے خلاف پہلے کھیلتے ہوئے ایک سو سینتالیس رنز بنا سکی اور میچ ہار گئی۔

کم اسکور والے ان میچوں کا سبب دبئی کی مردہ پچوں کو قرار دیا جا رہے، جہاں سیزن کے آخر میں اسٹروک لگانا دن بدن مشکل ہو رہا ہے۔

پاکستان کے سابق کپتان رمیز راجہ نے جو پی ایس ایل برینڈ ایمبیسڈڑ بھی ہیں نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ دبئی کی پچ سست ہے لیکن شارجہ میں چوکے چھکے لگیں گے اور بڑے اسکور دِکھنے کو ملیں گے جو شائقین دیکھنا چاہتے ہیں۔

Pakistan Super League

کراچی کنگز کے کپتان شعیب ملک ٹاس کے لیے میدان میں

پی ایس ایل کے پہلے ہفتے کی شاندار ریٹنگ

پی ایس ایل کی اٹھان اچھی رہی ہے۔ ابتدائی چار دن میں پاکستان میں لیگ کی ٹی وی ریٹنگ پچپن فیصد رہی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ پہلی بار کسی کرکٹ ٹورنامنٹ کی پروڈکشن خود کر رہا ہے اور اس نے ہانگ کانگ کی پرو ڈکشن کمپنی سن سیٹ واین کی خدمات حاصل کی ہیں۔

رمیز راجہ جو لیگ کے ٹی وی کامنٹیٹر بھی ہیں کہتے ہیں کہ پہلے دو دن بہت اہم تھے۔ رنگا رنگ افتتاحی تقریب کے بعد جمعہ کو دبئی اسٹیڈیم میں ہاوس فل تھا۔ انہوں نے کہا کہ بے شک ورکنگ ڈیز میں تماشائیوں کی تعداد کم ہوگئی لیکن یہ متوقع تھا۔

رمیز کے مطابق لوگ بھلے ہی دبئی میں میچ دیکھنے نہ آئیں لیکن پاکستان میں پچپن فیصد رٹیںگ پی ایس ایل کی کامیاب آغاز کا ثبوت ہے۔

مقامی رائے

دبئی میں مقیم گلف نیوز کے کرکٹ نامہ نگار ایس کے نائر نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ پی ایس ایل نے جس طرح ٹیک آف کیا، ایسی کامیابی کی کسی کو امید نہ تھی۔ اب اس لیگ کو صرف دلچسپ میچوں کی ضرورت ہے۔

کراچی کنگز کی پذیرائی اور شکوہ

کراچی کنگز پی ایس ایل کی سب سے مہنگی ٹیم ہے جسے پاکستان کے مشہور ٹیلی ویژن چینل اے آر وائی نے چھبیس کروڑ میں خریدا تھا۔

کراچی کنگز کے مالک اور اے آر وائی کے چئیرمین سلمان اقبال نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ کرکٹ سے ان کی خاندانی دلچسپی ہے اور ان کی فیملی شارجہ کے دنوں سے کرکٹ سے وابستہ ہے۔

سلمان اقبال کے مطابق کراچی والوں نے کراچی کنگز کو اپنا لیا ہے اور کراچی لاہور کا جمعہ کو ہونے والا میچ پاکستان میں ٹی وی پر سب سے زیادہ دیکھا جانت والا کرکٹ میچ تھا۔

سلمان اقبال نے بتایا کہ پی ایس ایل کا برینڈ تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے میڈیا ہاوسز کو بھی آئندہ سال سے پی ایس ایل کی ٹیمیں خریدنا چاہییں۔

Kevin Petereson

انگلش کھلاڑی کیون پیٹریسن بھی پاکستان سپر لیگ میں حصہ لے رہے ہیں

تاہم سلمان اقبال نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ پی سی بی کے سامنے پچز کا معاملہ ضرور اٹھائیں گے، ’’جب کرس گیل جیسے بیٹسمین سے چھکے نہ لگ رہے ہوں تو پھر پچ کے ساتھ کچھ گڑ بڑ ضرور ہو گی۔‘‘

دہشت گردوں سے بچ جانے والے بچے

پی ایس ایل میں کرس گیل، ویوین رچرڈز اور کیون پیٹرسن کے علاوہ پہلے ہفتے میں پشاور آرمی اسکول کے بچے بھی توجہ کا مرکز رہے، جنہیں پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی اپنی ٹیم کے میچ دکھانے پشاور سے دبئی لائے تھے۔

دو ہزار چودہ کے دہشت گردانہ حملے میں زندہ بچ جانے والے ان ایک سو بیس بچوں نے اپنے انیس اساتذہ کے ساتھ چار دن دبئی میں گزارے اور اسے اپنی زندگی کا بہترین وقت قرار دیا۔