پاکستان سٹیل ملز جون سے بند، ہفتہ وار پچاس لاکھ ڈالر نقصان | حالات حاضرہ | DW | 17.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان سٹیل ملز جون سے بند، ہفتہ وار پچاس لاکھ ڈالر نقصان

کبھی یہ ادارہ ملکی اسٹیل کی ضروریات کا پچاس فیصد حصہ پورا کرتا تھا لیکن آج سوویت دور کے ساز و سامان پر پرندے گھونسلے بنا چکے ہیں۔ اس کے وسیع رقبے پر جنگلی جڑی بوٹیاں اگ آئی ہیں اور آوارہ کتے گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔

کبھی پاکستان اسٹیل ملز کی ساڑھے چار کلومیٹر طویل بیلٹ کے ذریعے قریبی بندرگاہ سے کوئلہ لایا جاتا تھا لیکن اب یہ بھی بند ہے اور اس کی دہکتی ہوئی بھٹی بھی۔ یہ سرکاری کمپنی برائے فروخت ہے لیکن اسے کوئی بھی خریدنے کے لیے تیار نظر نہیں آتا، جو نجکاری کی حکومتی پالیسی کے لیے ایک اور دھچکا ہے۔ پاکستان اسٹیل مل کو کسی زمانے میں سونے کی چڑیا سمجھا جاتا تھا لیکن اب یہ اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے۔

اس حکومتی ادارے پر 3.5 ارب ڈالر کا قرض ہے اور یہ مسلسل خسارے میں جا رہا ہے۔ اس کا ہفتہ وار خسارہ پچاس لاکھ ڈالر ہے اور 19 ہزار ایکڑ پر محیط اس فیکڑی میں گزشتہ برس جون سے اسٹیل کی پیداوار نہیں ہو رہی۔ پیداوار بند اس وقت ہوئی تھی، جب گزشتہ برس نیشنل گیس کمپنی نے 340 ملین کے واجبات ادا نہ کرنے پر اس کو بجلی کی فراہمی روک دی تھی۔

پاکستان کے کئی دیگر صنعتی اداروں کی طرح اس کمپنی کو بھی سیاسی دخل اندازی اور چین کی سستی درآمدات لے ڈوبی ہیں۔ اس کمپنی پر نواز شریف حکومت کی اس پالیسی کا بھی منفی اثر ہوا، جس کے تحت سن دو ہزار تیرہ میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے 6.7 ارب ڈالر قرض حاصل کرنے کے عوض اس کی نجکاری کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

اس کمپنی کے چودہ ہزار ملازمین کی نوکریاں اس وقت داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔ کمپنی کے سی ای او ظہیر احمد خان کا نیوز ایجنسی روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’جون تک کمپنی کی دیکھ بھال کے لیے نو ارب روپے کی فوری ضرورت ہے۔‘‘ ان کا مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’یہ واقعی دکھ کی بات ہے، یہ ایک قومی اثاثہ ہے۔ ہم ایک جوہری طاقت ہیں لیکن ہم ایک چھوٹی سے اسٹیل مل کو نہیں چلا سکتے ؟‘‘

نجکاری کا درد

نجکاری کمیشن کے چیئرمین محمد زبیر کا کہنا تھا کہ سن دو ہزار چھ میں پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری کی کوشش کے بعد سے حکومت دو ارب ڈالر اس میں جھونک چکی ہے لیکن اس میں مزید سرمایہ کاری نہیں کی جا سکتی۔ اب صرف ایک ہی حل ممکن ہے، ’’پرائیویٹ سیکٹر اس میں سرمایہ کاری کرے، پلانٹ کو اپ گریڈ کیا جائے، نئی مشینیں لگائی جائیں اور وہ ہی خام مال بھی خریدیں۔‘‘

پاکستان خسارے کے شکار کئی ملکی اداروں کی نجکاری کرنا چاہتا ہے لیکن اسے مشکلات کا سامنا ہے۔ حال ہی میں پی آئی اے کو بھی بیچنے کی کوشش کی گئی لیکن فی الحال اس منصوبے کو موخر کر دیا گیا ہے۔ حکومت رواں ماہ بجلی فراہم کرنے والے اداروں کی بھی نجکاری کرنا چاہتی تھی لیکن وہ منصوبہ بھی فی الحال ترک کر دیا گیا ہے جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو بھی بتا دیا گیا ہے کہ اسلام آباد حکومت دی گئی ڈیڈ لائن تک ان کی نجکاری نہیں کر سکتی۔

شاندار ماضی

پاکستان اسٹيل مل کو ستر کی دہائی میں سابقہ سوویت یونین نے ڈیزائن کیا تھا اور اس کے لیے فنڈ بھی اسی نے مہیا کیے تھے۔ اس کمپنی کے ملازمین کا اب بھی یقین ہے کہ وہ اسے دوبارہ منافع بخش بنا سکتے ہیں۔ اس کمپنی کا موٹو ہے، ’’یِس آئی کین‘‘۔

یہ کمپنی سالانہ تین ملین ٹن اسٹیل پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن اب اس کی سالانہ پیداوار ایک عشاریہ ایک ملین ٹن ہے۔ مینیجرز مشینری اپ گریڈ کرنے میں ناکام رہے ہیں اور گزشتہ دہائیوں میں اس کی پیداوار بانوے فیصد تک کم ہوئی ہے جبکہ سن دو ہزار آٹھ سے مارکیٹ میں چین کی سستی مصنوعات بھی آ چکی ہیں۔

اب بین الاقوامی خریدار اس میں کم ہی دلچسپی لے رہے ہیں جبکہ حکومت کے ایک قریبی ذریعے کا کہنا تھا کہ کچھ گاہکوں نے اس کی بمشکل ایک سو ملین ڈالر قیمت لگائی ہے جبکہ حکومت کو نو سو ملین ڈالر کی توقع تھی۔ اگر کوئی گاہک نہیں ملتا تو وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ اسے سندھ حکومت کے حوالے کر دیا جائے۔

بتایا گیا ہے کہ سندھ حکومت کے حکام بھی سائٹ کا دورہ کر چکے ہیں لیکن انہوں نے دوبارہ رابطہ نہیں کیا۔ اگر سندھ حکومت انکار کرتی ہے تو نجکاری کا عمل دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔