1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

پاکستان: سولر واٹر ہیٹر، درختوں کا تحفظ

محمد نعیم کا گھر صوبہ خیبر پختونخوا کے ایک پہاڑی علاقے میں واقع ہے اور گزشتہ ایک برس سے روزانہ وہاں کوئی نہ کوئی ایسا دیہاتی ضرور آتا ہے، جو اس کے لگائے ہوئے سولر واٹر ہیٹر کے بارے میں جاننا چاہتا ہے۔

پینتیس سالہ محمد نعیم کا سولر واٹر ہیٹر کے فوائد بتاتے ہوئے کہنا تھا،’’سولر گیزر سے سانس کی بیماریاں نہیں ہوتیں، آپ لکڑیاں جمع کرنے کی مصیبت سے بچ جاتے ہیں اور مٹی کے تیل وغیرہ کے اخراجات بھی نہیں ہوتے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اب انہیں کبھی بھی کھانا پکانے، نہانے یا برتن اور کپڑے دھونے کے لیے لکڑیوں کو جلانے کی ضرورت نہیں پڑی۔

اس دکان پر کھڑے ہوئے ایک کسان علی اکبر کا تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’میرا نہیں خیال کہ کوئی بھی اس شمسی گیزر کا مالک بننے سے انکار کرے گا۔ اس کے معاشی اور ماحولیاتی فوائد ہیں جبکہ اس سے صحت کو بھی نقصان نہیں پہنچتا۔‘‘

سب سے پہلا شمسی گیزر ورلڈ وائڈ فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) پاکستان کی طرف سے چھ سال پہلے سیاحتی مقام نتھیاگلی میں متعارف کروایا گیا تھا لیکن اب یہ علاقے بھر میں مقبول ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کی مقبولیت کہ وجہ یہ ہے کہ یہ سستے ہیں، ماحول دوست ہیں اور لکڑی یا مٹی کے تیل کا متبادل بھی۔ اس ہیٹنگ سسٹم میں پانی سولر ٹیوبز میں بھر دیا جاتا ہے اور یہ ٹیوبز اوپر لگائے گئی ایک واٹر ٹینکی سے منسلک ہوتی ہیں۔ یہ شمسی ٹیوبز سورج کی روشنی کو جذب کرتے ہوئے اسے حرارت میں تبدیل کر دیتی ہیں اور ٹیوبز میں موجود پانی گرم ہو کر ٹینکی میں گرتا جاتا ہے۔ اسی طرح ٹینکی میں موجود ٹھنڈا پانی شمسی ٹیوبز میں داخل ہوتا جاتا ہے اور یہ سرکل مسلسل چلتا رہتا ہے۔

علاقے میں جب سے یہ ہیٹنگ سسٹم متعارف کروایا گیا ہے، تب سے صرف یہ مقبول ہوتا جا رہا ہے بلکہ درختوں کی حفاظت بھی ہو رہی ہے۔ یہ سسٹم اس وقت نتھیا گلی کے علاوہ ایوبیہ نیشنل پارک کے تین مضافاتی علاقوں میں کام کر رہا ہے اور اس علاقے میں تقریباﹰ چار ہزار خاندان آباد ہیں۔

اس علاقے میں سولر واٹر ہیٹنگ سسٹم سن 2009 میں ڈبلیو ڈبلیو ای پاکستان کی طرف سے متعارف کروایا گیا تھا اور اس کی فنڈنگ میں کوکا کولا فاؤنڈیشن بھی شامل تھی۔ اس منصوبے کا مقصد جنگلات کی کٹائی روکنا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق اس علاقے میں سالانہ گیارہ سو درخت کاٹ دیے جاتے ہیں۔