1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشست جیتنے کے لیے پر امید

پاکستان جمعہ 21 اکتوبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل اراکین کے سالانہ انتخابات میں ایک نشست جیتنے کی امید کر رہا ہے جس کے نتیجے میں 1977ء کے بعد پہلی بار سلامتی کونسل میں پاکستان اور بھارت اکٹھے ہوں گے۔

default

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل

سلامتی کونسل میں انتخابات علاقائی کوٹے کی بنیاد پر ہوتے ہیں جس کی دو سالہ میعاد اس بار یکم جنوری 2012ء سے 31 دسمبر 2013ء تک ہو گی۔ ایشیا بحر الکاہل گروپ کی ایک نشست کے لیے پاکستان اور کرغزستان کے درمیان مقابلہ ہے۔

بھارت رواں برس کونسل میں شامل ہوا اور وہ 2012ء تک اس میں رہے گا۔ پاکستان اور بھارت کو روایتی حریف ممالک تصور کیا جاتا ہے اور دونوں کے درمیان تین جنگیں ہو چکی ہیں۔

اقوام متحدہ کے سفارت کاروں نے کہا ہے کہ انہیں پاکستان کی شمولیت سے کسی قسم کی علاقائی کشیدگی کی توقع نہیں ہے۔ ایک سینئر مغربی سفارت کار نے بدھ کو کہا کہ دونوں ملکوں کے سفیر ’بہترین دوست‘ ہیں اور بہت سے معاملات پر ان کا مؤقف یکساں ہے۔

پاکستان 1947ء سے اقوام متحدہ کا رکن ملک ہے اور پہلے بھی چھ بار سلامتی کونسل میں رہ چکا ہے۔ کرغزستان نے 1992ء میں اقوام متحدہ میں شمولیت اختیار کی تھی اور اس نے کبھی کونسل کی نشست حاصل نہیں کی۔

BRICS Treffen in China 2011 mit Singh, Medwedew, Hu Jintao, Rousseff und Zuma

رواں برس BRICS کے پانچوں ممالک سلامتی کونسل میں شامل ہیں

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دس غیر مستقل اراکین کے علاوہ پانچ مستقل اراکین امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین ہیں جن کے پاس ویٹو کا اختیار ہے۔

سفارت کاروں کے مطابق ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ آئندہ برس سلامتی کونسل کی تشکیل کیا ہو گی۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ پاکستان امریکہ اور یورپ کے شام اور ایران جیسے ملکوں پر دباؤ کی مزاحمت کرتے ہوئے روس اور چین کی صف میں کھڑا ہو جائے۔

رواں برس ابھرتی ہوئی معیشتوں کے بلاک BRICS کے پانچوں اراکین یعنی برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ سلامتی کونسل میں شامل ہیں۔

عام طور پر کونسل کے انتخابات کی نمایاں خصوصیت مقابلے کے بغیر ہی اراکین کا تقرر ہونا ہے مگر رواں برس لاطینی امریکہ اور کریبیئن کے علاوہ باقی تمام علاقائی نشستوں کے لئے مقابلہ ہو رہا ہے جس سے اس بار کے انتخابات کئی برسوں بعد پہلی بار ناقابل پیش گوئی بن گئے ہیں۔

سب سے کانٹے دار مقابلہ مشرقی یورپ کے خطے کے لیے ہے جہاں آذر بائیجان ایک نشست کے لئے ہنگری اور سلووینیا کے مدمقابل ہو گا۔

افریقی خطے کی دو نشستوں کے لئے عرب لیگ کے دو اراکین موریطانیہ اور مراکش اور ٹوگو کے درمیان مقابلہ ہے۔

چونکہ رائے شماری خفیہ ہوتی ہے لہٰذا کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ نشستیں کون حاصل کرے گا۔ سن 2012ء تک موجود رہنے والے پانچ غیر مستقل اراکین میں بھارت، کولمبیا، جرمنی، پرتگال اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔

رپورٹ: حماد کیانی/خبر رساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس