1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان سلامتی کونسل میں بھارت کا ساتھی

اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر عبد اللہ حسین ہارون نے سلامتی کونسل کی غیر مستقل رکنیت کے لیے بھارت کی حمایت کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

default

پاکستان کو اگلے دو سال کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب کر لیا گیا ہے۔ ایشیا پیسیفک کی اس نشست کے لیے پاکستان کے مقابلے پر کرغزستان تھا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 193 میں سے بھارت سمیت 129ارکان نے پاکستان کے حق میں رائے دی جبکہ اس کے واحد حریف کرغزستان کے حق میں 55 ارکان نے رائے دی۔

عبد اللہ حسین ہارون نے جنرل اسمبلی میں رائے شماری کے بعد اپنے خطاب کے دوران کہا، ’’آپ لوگوں نے دیکھا کہ ہمارے درمیان روایتی رجحانات نہیں ابھرے اور یہ ایک اچھی بات ہے۔‘‘ جنرل اسمبلی میں بھارتی سفارت کار منجیو سنگھ پوری نے بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ دونوں ممالک کئی عالمی امور پر یکساں سوچ رکھتے ہیں اور ان کا ملک سلامتی کونسل میں پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا متمنی ہے۔

واضح رہے کہ بھارت پہلے ہی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن ہے اور مستقل رکنیت کے حصول کی کوششوں میں ہے۔ سلامتی کونسل میں اب جوہری طاقت کے حامل پانچ مستقل ارکان کے علاوہ دو مزید جوہری طاقتیں یعنی پاکستان اور بھارت بھی غیر مستقل رکن بن گئی ہیں۔ ہر سال پانچ نئے ممالک کو سلامتی کونسل کی دو سالہ غیر مستقل رکنیت دی جاتی ہے۔

Deutschland Weltsichersheitsrat Wahl Genereralversammlung UN NO FLASH

خبر رساں ادارے روئٹرز نے مغربی سفارت کاروں کے حوالے سے بتایا کہ عین ممکن ہے کہ پاکستان بھی اب چین، روس، بھارت اور برازیل کی طرح ایران اور شام مخالف نئی پابندیوں کی مخالفت اور فلسطینی ریاست کی رکنیت کی حمایت کرے۔

پاکستان کے علاوہ مراکش ، ٹوگو اور گوئٹے مالا بھی سلامتی کونسل کی غیر مستقل رکنیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ پانچویں رکن ملک کے طور پر جنرل اسمبلی میں آذربائیجان، ہنگری اور سلووینیا کے درمیان طویل مقابلہ ہوا۔ دو بار کی رائے شماری کے بعد ہنگری نے دستبرداری کا اعلان کیا مگر پھر بھی بقیہ دونوں میں سے کوئی بھی ملک مطلوبہ ایک تہائی اکثریت حاصل نہ کر سکا۔ اس کے برعکس مراکش کو 151ارکان جبکہ ٹوگو کو 131 ارکان کی حمایت سے جبکہ گوئٹے مالا کو بلامقابلہ منتخب کیا گیا۔

نئے رکن ممالک سلامتی کونسل کے سابق غیر مستقل ارکان بوسنیا، برازیل، گابون، لبنان اور نائیجیریا کی جگہ لیں گے۔ ان نو منتخب ارکان کی دو سالہ مدت رکنیت کا آغاز اگلے سال جنوری سے ہو گا۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: امجد علی

DW.COM