1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

پاکستان زینت شہزادی کی جبری گمشدگی کی تحقیقات کرے، ایمنسٹی

آج دنیا بھر میں لاپتہ افراد کے عالمی دن کے موقع پر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی حکومت پر زور ڈالا ہے کہ وہ خاتون صحافی زینت شہزادی کی گمشدگی کی تحقیقات کرے جنہیں ایک برس قبل لاہور سے اغوا کر لیا گیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ویب سائٹ پر زینت شہزادی سے متعلق جاری ایک مضمون میں لکھا گیا ہے کہ 24 سالہ اس خاتون صحافی کو 19 اگست سن 2015 میں مسلح افراد نے اس وقت اغوا کر لیا تھا جب وہ ایک رکشے میں سوار ہو کر اپنے دفتر جا رہی تھیں۔ اس دن سے آج تک کسی کو زینت کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان دعویٰ کرتی ہے کہ زینت پاکستانی افواج کا شکار بنی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جنوبی ایشیا کی ڈائریکٹر چمپا پٹیل نے ایک بیان میں کہا ہے،’’ زینت شہزادی پاکستان کی پہلی خاتون صحافی ہے، جس پر شبہ ہے کہ اسے جبری طور پر اٹھایا گیا تھا، یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کئی افراد کو غائب کر دیا گیا ہے، اب بھی اس ملک میں جبری گمشدگی کے ہزاروں مقدمات التواء کا شکار ہیں۔‘‘

پاکستانی حکومت کی جانب سے قائم کیا گیا ’کمیشن برائے جبری گمشدگیاں‘ زینت شہزادی کے کیس کی بھی تحقیقات کر رہا ہے۔ اس کمیشن کے مطابق ملک میں ایسے 3000 میں سے 1417 کیسز تاخیر کا شکار ہیں۔

چمپا پٹیل کا کہنا ہے،’’ پاکستان میں صحافیوں کو مسلح گروہوں اور سکیورٹی افواج دونوں ہی سے خطرات لاحق ہیں، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ صحافیوں کو تحفظ فراہم کرے۔‘‘

پاکستان کے ’کمیشن برائے جبری گمشدگیوں‘ نے زینت کے کیس سے متعلق گزشتہ ماہ ملاقات کی تھی۔ اس کیس کے وکلاء کے مطابق اب تک اس مقدمے میں ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ اس حوالے سے سویلین اور فوجی اہلکاروں پر مشتمل ’جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم‘ اب تک ملزمان کی شناخت کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ویب سائٹ کے مطابق زینت شہزادی ایک لاپتہ شخص کے کیس پر کام کر رہی تھیں، جو شاید ان کے اغوا کی ممکنہ وجہ بھی ہے۔ وہ لاہور کے روزنامے ’نئی خبر‘ اور ’میٹرو نیوز لاہور’ کے لیے کام کرتی تھیں اور اس دوران وہ ایک بھارتی شہری حامد انصاری کی گمشدگی کے معاملے میں دلچسپی لینے لگیں تھیں۔ حامد انصاری سن 2012 میں پاکستان میں غائب ہو گیا تھا۔ اب اس شخص کا سراغ لگا لیا گیا ہے۔ وہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے اور جاسوسی کے جرم میں پشاورکی جیل میں تین سال کی قید کاٹ رہا ہے۔

ایمنسٹی کے مطابق حامد انصاری کیس سے متعلق ثبوت لے کر زینت نے 24 اگست 2015 ء کو جبری گمشدگیوں کے کمیشن کے سامنے پیش ہونا تھا۔ رکشہ ڈرائیور نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس کے رکشے کو دو گاڑیوں نے سٹرک پر روک دیا تھا، ان گاڑیوں میں سوار مسلح افراد نے رکشے سے زینت شہزادی کو اغوا کر لیا۔ زینت کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اغوا سے کچھ روز قبل سکیورٹی اہلکاروں نے حامد انصاری کیس کے حوالے سے پوچھ گچھ کے لیے زینت کو چار گھنٹے اپنی تحویل میں رکھا تھا۔ ایچ آر سی پی سے منسلک حنا جیلانی کا کہنا ہے،’’اس بات کے قوی امکان ہے کہ زینت کے اغوا میں حکومت کی کوئی ایجنسی ملوث ہو۔‘‘

متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والی زینت شہزادی اپنے گھر کی واحد کفیل تھیں۔ زینت شہزادی کے اغوا ہونے کی کہانی کا ایک انتہائی تکلیف دے پہلو یہ بھی ہے کہ چند ماہ قبل اُن کے بھائی نے اپنی بہن کی طویل گمشدگی سے دلبرداشتہ ہو کر خود کشی کر لی تھی۔

DW.COM