1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان: زہریلی شراب پینے سے پینتیس افراد ہلاک

پاکستانی صوبہ سندھ کے علاقے ٹنڈو محمد خان زہریلی شراب پینے سے کم از کم پینتیس افراد ہلاک اور متعدد بیمار ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔

اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ پابندی کے باوجود پاکستان میں مقامی سطح پر تیار کی جانے والی شراب کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق زیریلی شراب پینے کا یہ واقعہ گزشتہ شام کراچی سے دو سو پچاس کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ٹنڈو محمد خان میں پیش آیا۔ شہر کی سینئر خاتون پولیس افسر نسیم آرا کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئےکہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں خواتین بھی شامل ہیں جبکہ تمام متاثرین کا تعلق ہندو اقلیت سے ہے۔

ایک دوسرے پولیس اہلکار کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا کہ ہسپتال میں سینتیس متاثرہ افراد کو لایا گیا تھا۔ پولیس حکام کے مطابق اس واقعے میں ملوث چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ مرکزی ملزم ابھی تک فرار ہے۔

خاتون پولیس افسر کا مزید کہنا تھا، ’’ابھی دو دن پہلے ہی ہم نے پینسٹھ ہزار لیٹر دیسی شراب اپنے قبضے میں لی تھی لیکن اس کی پیداوار بہت بڑھ چکی ہے۔‘‘

ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے انچارج وزیر گیان چند اسرانی، جن کے ذمے الکوحل کو ریگولیٹ کرنا بھی ہے، کا کہنا تھا، ’’اس سلسلے میں تحقیقات شروع کر دی گئیں ہیں اور متعدد عہدیداروں کو غفلت برتنے پر معطل کر دیا گیا ہے۔‘‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان ہلاکتوں سے پاکستان جیسے معاشرے میں دیسی شراب کے خطرات کا پتہ چلتا ہے جہاں مسلمانوں کے شراب پینے پر پابندی ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان میں شراب کی قانونی فیکٹریاں موجود ہیں، تاہم مسلمانوں کو شراب فروخت کرنے کی ممانعت ہے۔ البتہ اقلیتوں اور غیرملکیوں کو حکومت کے سخت کنٹرول کے تحت شراب بیچنے کی اجازت ہے۔

پاکستان میں امراء غیر قانونی طور پر مہنگی شراب خرید لیتے ہیں تاہم کم آمدنی والے لوگ دیسی شراب پر انحصار کرتے ہیں جس میں میتھنول شامل کرنے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں اور یہ کیمیکل عام طور پر ایندھن میں استعمال کی جاتی ہے۔ میتھنول پینے کے نتیجے میں انسان اندھا ہو سکتا ہے، یہ گردوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

پاکستان میں زہریلی شراب پینے کے نتیجے میں ہلاکتیں انہونی بات نہیں ہے، آئے دن میڈیا میں ایسی خبریں سننے کو ملتی ہیں۔