1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان: زلزلے کے دس سال’ چابیاں تو مل گئیں، گھر نہیں ملے‘

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں آنے والے زلزلے کے دس سال مکمل ہونے پر اس کے اثرات آج تک بھی محسوس کیے جارہے ہیں۔ اس زلزلے میں 73 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے جبکہ ایک لاکھ 28 ہزار زخمی ہوئے تھے۔

default

تباہ کن زلزلے کے دس سال پورے ہونے پر آج جمعرات کو دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے مخلتف حصوں میں دعائیہ تقریبات منعقد کی گئیں۔ ہلاک ہونیوالوں کی یاد میں آٹھ بج کر باون منٹ پر ایک منٹ کے لیے خاموشی اختیار کی گئی۔ اس ضمن میں مرکزی تقریب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں منعقد کی گئی۔ اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے وزیر اعظم چوہددری عبدالمجید نے اعتراف کیا کہ "زلزلے کے بعد بحالی کا کام جس رفتار سے ہونا چاہیے تھا اس طرح نہیں ہوا۔ ایک لاکھ سے زیادہ بچے کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں۔"

Flüchtlingslager in Pakistan

حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے کے بعد بین الاقوامی امداد کے جو وعدے کیے گئے تھے وہ پورے نہیں کیے گئے جس کی وجہ سے تعمیر نو کا کام سست روی کا شکاری ہے۔ جمعرات کو مظفر آباد میں زلزلے کے دوران معذور ہو نے والے افراد نے ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی۔ اس ریلی کے شرکاء کا کہنا تھا کہ انہیں حکومت نے بحالی اور تعمیر نو کے عمل کے تحت گھروں کی چابیاں تو دیں لیکن گھر نہیں مل سکے۔

زلزلے بعد بحالی اور تعمیر نو کے لیے قائم ادارے "ایرا" کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 2005ء میں آنے والے زلزلے سے 5808 اسکول تباہ ہوئے جن میں سے اب تک 2882 اسکول تعمیر ہو چکے ہیں جب کہ لگ بھگ 2800 کی تعمیر جاری ہے۔ اس کے علاوہ صحت کے تین سو سات مراکز تباہ ہوئے، جن میں سے ایک سو ترانوے تعمیر کیے گئے جبکہ ایک سو تیرہ زیر تعمیر ہیں۔ اس کے علاوہ چھ لاکھ گیارہ ہزار انسٹھ گھر تباہ ہوئے جن میں سے چھ لاکھ کی تعمیر کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔

تاہم دوسری جانب حکومتی دعوؤں کے برعکس زلزلے میں سب سے زیادہ متاثر ہونیوالے خیبر پختونخواہ کے شہر بالا کوٹ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ اب تک دو ہزار پانچ جیسی صورتحال ہی میں رہنے پر مجبور ہیں۔ اکتیس سالہ محمد رضا کا تعلق بالا کوٹ سے ہے اور وہ ملازمت کی غرض سے اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ رضا کا کہنا ہے کہ جب اکتوبر دوہزار پانچ کا ہولناک زلزلہ آیا تو وہ گورنمنٹ کالج بالا کوٹ میں بی اے کے طالبعلم تھے۔ ماضی کو یاد کرتے ہوئے رضا نے بتایا کہ "میں کالج جانے کے لیے گھر سے نکل کر قریب ہی واقع مکئی کے کھیت کے ساتھ پگڈنڈی پر چل رہا تھا کہ اچانک ایسا محسوس ہوا جیسا کسی نے زمیں پیروں کے نیچے سے کھینچ لی ہو میں ابھی سنبھلنے کی کوشش کر رہا تھا کہ ارد گرد کے پہاڑوں پر بنے مکانات زمین بوس ہو کر وہاں سے گرد اڑتی نظر آئی اور پھر ہر طرف لوگوں کی چیخ وپکار تھی۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ خوش قسمتی سے اس زلزلے مین ان کے خاندان کا کوئی فرد ہلاک نہیں ہوا البتٰہ بہت سے رشتے داروں اور گاؤں والوں کی لاشوں کو انہوں نے خود ملبے تلے سے نکالا۔ محمد رضا کے بقول’’زلزلے میں گورنمنٹ کالج کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی تھی اور آج دس سال گزرنے کے بعد بھی یہ عمارت زیر تعمیر ہی ہے۔ اس کے علاوہ بالاکوٹ کے مرکز میں رہنے والوں کو کہا گیا کہ وہ اپنے گھر دوبارہ پہلی جگہ تعمیر نہ کریں انہیں حکومت بکر وال کے مقام پر نئے گھر بنا کر دے گی لیکن آج تک یہ نیا شہر آباد نہیں ہو سکا۔‘‘