پاکستان: ریڑھ کی ہڈیوں کا پانی نکالنے والا گروہ پکڑا گیا | صحت | DW | 13.02.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

پاکستان: ریڑھ کی ہڈیوں کا پانی نکالنے والا گروہ پکڑا گیا

پاکستانی پولیس نے انسانی جانوں سے کھیلنے والے ایک ایسے گروہ کو گرفتار کر لیا ہے جو مریضوں کو دھوکا دے کر ان کی ریڑھ کی ہڈیوں سے پانی نکال لیتا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی اسلام آباد سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق پاکستانی حکام نے مریضوں کو دھوکا دے کر ان کی ریڑھ کی ہڈی کا پانی نکال لینے والے اس جرائم پیشہ گروہ کے پانچ ارکان کو پاکستانی صوبہ پنجاب کے ضلع حافظ آباد سے گرفتار کیا ہے۔ پاکستان میں انسانی جانوں سے کھیلتے ہوئے دھوکے سے مریضوں کے اعضا چوری کر کے طب کی مقامی بلیک مارکیٹ میں فروخت کیے جانے کے ایسے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں۔

پاکستانی علماء نے فتوے پر افغان صدر کے اعتراضات مسترد کر دیے

پاکستان میں ذیابیطس کے سات ملین سے زائد مریض

پولیس کے مطابق اس گروہ کے مشتبہ ارکان کی گرفتاری ان کا نشانہ بننے والی ایک خاتون کے رشتہ دار کی جانب سے دی گئی اطلاع کے بعد عمل میں آئی۔ جرائم پیشہ گروہ کے یہ ارکان اپنے متاثرین کو مفت جہیز دینے کا لالچ دے کر انہیں بتاتے تھے کہ اس پروگرام میں شرکت کے بعد مفت جہیز کی فراہمی اس عمل سے گزارے جانے سے مشروط ہے۔

بعد ازاں انسانوں کی ریڑھ کی ہڈیوں سے نکالا گیا یہ مائع طب کی مقامی بلیک مارکیٹ میں فروخت کر دیا جاتا تھا جسے ’بون میرو ٹرانسپلانٹ‘ کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ آباد پولیس کے تفتیشی افسر عبدالمجید کا کہنا تھا، ’’گرفتار کیے گئے افراد نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے اس علاقے میں کم از کم دس خواتین کی ریڑھ کی ہڈیوں سے مائع نکالا جسے مقامی سرکاری ہسپتال میں کام کرنے والے ایک خاکروب کو فروخت کر دیا گیا۔ اس شخص کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔‘‘

محمد عمران نامی ایک اور پولیس اہلکار نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا کہ اس ضمن میں تفتیشی عمل جاری ہے۔

ایک مقامی اخبار روزنامہ جنگ نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس گروہ نے کم از کم نوے خواتین کی ریڑھ کی ہڈیوں سے پانی نکالا جن میں سے کئی مفلوج ہو چکی ہیں۔

پاکستان گردوں کے ٹرانسپلانٹ کے غیر قانونی کاروبار کے حوالے سے بدنام ہے اور کئی غیر ملکی ایسے علاج کے لیے پاکستان کا رخ کرتے ہیں۔ گزشتہ برس پاکستانی حکام نے دو عمانی باشندوں کا غیر قانونی ’کڈنی ٹرانسپلانٹ‘ آپریشن کرنے کے الزام میں طب سے وابستہ جرائم پیشہ گروہ کے کچھ ارکان کو گرفتار کیا تھا۔

پاکستانی قوانین کے مطابق انسانی اعضا کی خرید و فروخت پر پابندی عائد ہے اور علاج کے لیے مریض کے قریبی رشتہ دار ہی اعضا کا عطیہ کر سکتے ہیں۔

کراچی ميں گٹکے اور مين پوری کی وجہ سے بڑھتے ہوئے طبی مسائل

ویڈیو دیکھیے 02:45

کسان آلودہ پانی سے سبزیاں کاشت کرنے پر مجبور

DW.COM

Audios and videos on the topic