1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان: ذہنی مریض کی سزائے موت کو روک دیا گیا

پاکستان کی سپریم کورٹ نے امداد علی نامی ایک شخص کی سزائے موت کو ملتوی کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ اس شخص کو کل منگل کے روز پھانسی دی جانی تھی۔

نیوز ایجنسی اے پی کو ملتان میں جیل کے سربراہ سید بابر علی نے بتایا ہے کہ پیر کے روز انہیں ایک شخص کی پھانسی کو اگلے ہفتے تک ملتوی کرنے کا حکم نامہ موصول ہوا ہے۔ آئندہ ہفتے اعلیٰ عدالت اس کیس کے حوالے سے سماعت کرے گی۔ تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ یہ حکم نامہ امداد علی کے کیس کے حوالے سے ہی ہے۔

واضح رہے کہ ہیومن رائٹس واچ نے امداد علی کو سزائے موت نہ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ انسانی حقوق کی اس تنظیم کے مطابق اس مجرم کو سزائے موت دینا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہو گی۔

50 سالہ امداد علی کو سن 2002 میں ایک مذہبی رہنما کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

پاکستان میں ہیومن رائٹس واچ کے سربراہ سروپ اعجاز نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا، ’’پاکستان معذور افراد کے حقوق کے بین لااقوامی معاہدے پر دستخط کر چکا ہے لہذا اس کیس میں پاکستان اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں نہیں نبھا رہا۔‘‘

سروپ اعجاز کا کہنا ہے کہ امداد علی کو اپنی سزا اور پھانسی سے متعلق کچھ معلوم نہیں ہے، ایک ایسے شخص کو سزا دینا جو سمجھ بوجھ ہی نہ رکھتا ہو ایک خوف ناک اور غیر منصفانہ عمل ہے۔

ماہر نفسیات طاہر فیروز خان نے سن 2012 میں امداد علی کو ذہنی مریض قرار دیا تھا۔ امداد علی کو پھانسی دیے جانے کی خبر ان کے لیے کسی صدمے سے کم نہ تھی۔ طاہر فیروز کا کہنا ہے،’’ اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ اس شخص کا ذہنی توازن درست نہیں ہے، اس کو پھانسی دینا ایک انتہائی بری خبر ہے۔‘‘

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق امداد علی کے بات چیت کرنے میں ربط نہیں ہے، وہ اکثر اپنے آپ سے باتیں کرتا ہے اور خود ہی ہنستا بھی ہے۔ گزشتہ ماہ لاہور ہائی کورٹ نے ان دلائل کو رد کر دیا تھا کہ امداد علی کو اس کی بیماری کے باعث سزائے موت نہیں ہونی چاہیے۔

سن 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد پاکستان میں فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر ان عدالتوں میں دہشت گردی میں ملوث مجرمان کو موت کی سزائیں سنائی گئی تھیں لیکن بعد میں دیگر ملزمان کو بھی انہی عدالتوں کی طرف سے موت کی سزا دینے کا عمل شروع کر دیا گیا تھا۔ دسمبر 2014 کے بعد سے اب تک 400 افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

DW.COM