1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان: دو مسافر بسوں میں تصادم، کم از کم تیس افراد ہلاک

پاکستان کے ضلع رحیم یار خان میں دو مسافر بسوں کے تصادم میں کم از کم تیس افراد ہلاک اور پچاس کے قریب زخمی ہو گئے۔ پیر سترہ اکتوبر کو پیش آنے والے اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں کم از کم پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق مخالف سمتو‌ں سے آنے والی اور مسافروں سے بھری ہوئی ان بسوں کے مابین یہ براہ راست تصادم ملک کے سب سے زیادہ آبادی والے وسطی صوبے پنجاب کے جنوب میں ضلع رحیم یار خان میں پیش آیا۔

ایک مقامی پولیس اہلکار نے روئٹرز کو بتایا کہ اس حادثے میں 45 اور 50 کے درمیان افراد زخمی بھی ہوئے، جنہیں فوری طبی امداد کے لیے ایک قریبی ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ ایک دوسرے پولیس افسر محمد آصف کے مطابق ریسکیو ٹیمیں جائے حادثہ پر اپنی امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور درجنوں زخمیوں میں سے کئی کی حالت نازک ہے، جس کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے مقامی حکام کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ ہلاکت خیز تصادم پیر کی صبح مقامی وقت کے مطابق چھ بجے پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور سے قریب 600 کلومیٹر جنوب کی طرف واقع ضلع رحیم یار خان میں اسی نام کے شہر کے قریب پیش آیا۔

رحیم یار خان شہر کے ایک پولیس افسر حسن اقبال نے روئٹرز کو بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق حادثے کے ایک گھنٹے بعد تک ہلاکتوں کی تعداد 30 سے تجاوز کر چکی تھی۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ان دونوں بسوں میں 100 سے زائد مسافر سوار تھے اور ان کے درمیان تصادم خان پور کے قصبے میں ہوا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ دونوں بسیں آپس میں ٹکرانے کے بعد سڑک کے کنارے درختون سے جا ٹکرائی تھیں۔

پاکستان میں ہلاک خیز ٹریفک حادثات ہر سال ہزاروں شہریوں کی جان لے لیتے ہیں، جن کی بڑی وجوہات زیادہ تر سڑکوں کی خراب حالت، لاپرواہی  سے کی جانے والی ڈرائیونگ اور ٹریفک قوانین کا احترام نہ کرنا ہوتی ہیں۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ٹریفک حادثات ہر سال قریب 5000 انسانی ہلاکتوں کی وجہ بنتے ہیں۔

پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے آج کے حادثے میں درجنوں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

DW.COM