1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان: دو دھماکوں میں کم از کم نو افراد ہلاک

معروف صوفی بزرگ بابا فرید گنج شکر کے مزار کے باہر ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد جبکہ قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں ایک بارودی سرنگ پھٹنے سے کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے۔

default

صوبہ پنجاب کے وسطی ضلع پاکپتن کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر امجد جاوید سلیمی کے بقول معروف صوفی بزرگ بابا فرید گنج شکر کے مزار کے باہر ہونے والے دھماکے میں چھ افراد ہلاک جبکہ 13 دیگر زخمی ہوئے، جن میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔ سلیمی کے مطابق پیر کی صبح نماز فجر کے بعد ہونے والا یہ دھماکہ ایک موٹر سائیکل پر لدے دودھ کے ایک ڈرم میں رکھے گئے بم کی مدد سے کیا گیا، جو غالباﹰ ایک ریموٹ کنٹرول بم تھا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ موٹر سائیکل دھماکے سے پانچ منٹ قبل دو افراد نے 12 ویں صدی کے بزرگ بابا فرید کے مزار کے مرکزی دروازے کے باہر پارک کی اور غائب ہوگئے۔

Pakistan Anschlag Sufi Heiligtum

مزار کے باہر موجود مارکیٹ میں متعدد دکانیں دھماکے کے نتیجے میں تباہ ہوگئیں

اس دھماکے کے نتیجے میں مزار کے قریب واقع مارکیٹ میں کئی دکانیں بھی تباہ ہوگئیں۔ بابا فرید گنج شکر کے مزار پر روزانہ ہزاروں لوگ جمع ہوتے ہیں، تاہم نماز فجر کے بعد وہاں زیادہ رش نہیں تھا، جس وجہ سے جانی نقصان نسبتاﹰ کم ہوا۔

ادھر ملک کے شمال مغربی قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں ایک گاڑی ایک زمینی بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے نتیجے میں تباہ ہوگئی اور اس میں سوار تین افراد ہلاک جبکہ دو دیگر زخمی ہو گئے۔ ایک سرکاری اہلکار سید ذیشان کے مطابق یہ دھماکہ اورکزئی ایجنسی کے علاقے کالایا میں پیش آیا۔

Pakistan Anschlag Sufi Heiligtum

تفتیشی اہلکار پاکپتن دھماکے کے بعد ثبوتوں کی تلاش میں مصروف

پاکستانی سکیورٹی فورسز کے بقول طالبان عسکریت پسندوں نے حالیہ دنوں کے دوران سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے لئے سڑک کنارے بم اور بارودی سرنگیں نصب کرنے کا سلسلہ بڑھا دیا ہے۔ ایسے ہی ایک واقعے میں جمعہ 22 اکتوبر کو چھ فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے، جن میں ایک لیفٹیننٹ کرنل بھی شامل تھا۔

طالبان شدت پسندوں کی طرف سے پاکستان میں موجود صوفی بزرگوں کے مزارات پر دھماکوں کا سلسلہ بڑھتا چلا جارہا ہے۔ حالیہ واقعے سے قبل رواں ماہ کے شروع میں کراچی میں موجود عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر ہونے والے دو خود کش دھماکوں میں آٹھ افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ اس سے قبل رواں برس 11 جولائی کو لاہور میں موجود معروف صوفی بزرگ ابوالحسن علی ہجویری کے مزار پر، جنہیں داتا گنج بخش کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، دو خود کش بم دھماکوں کے نتیجے میں 40 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس