1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان: دو بم دھماکوں میں 24 افراد ہلاک

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں ہوئے دو بم دھماکوں میں کم از کم 24 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ نوشہرہ کی ایک بیکری پر بم دھماکے کے نتیجے میں تین بچوں سمیت کل 18 افراد ہلاک ہوئے جبکہ متنی بم دھماکے میں 6 افراد مارے گئے۔

default

دہشت گردی کی یہ تازہ ترین کارروائیاں ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب دو روز قبل القاعدہ نیٹ ورک کا ایک اہم رہنما الیاس کشمیری ایک ڈرون حملہ میں ہلاک ہوا۔

اتوار کو پہلا بم دھماکہ پشاور کے نواح میں واقع متنی نامی علاقے میں ہوا۔ اس حملے کے قریب بارہ گھنٹوں بعد عسکری لحاظ سے اہم سمجھے جانے والے شہر نوشہرہ میں دوسرا حملہ کیا گیا۔ نوشہرہ میں واقع ایک مصروف بیکری میں حملے کے نتیجے میں کم ازکم 30 افراد زخمی بھی ہوئے۔

نوشہرہ میں بم اسکواڈ کے عملے کے سربراہ تنویر احمد کے بقول یہ کارروائی خودکش حملہ آور کی محسوس ہوتی ہے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ مزید حقائق جاننے کے لیے ابھی تحقیقات جاری ہیں۔

Mohammed Ilyas Kashmiri

القاعدہ کا ایک اہم رہنما الیاس کشمیری مبینہ امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں ہلاک ہوا

دوسری طرف پاکستانی طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہےکہ یہ دھماکہ ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے کیا گیا۔ طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کسی نامعلوم جگہ سے فون کرکے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا،’ یہ حملہ ریموٹ کنٹرول بم سے کیا گیا، جسے ہمارے ساتھی نے وہاں نصب کیا تھا‘۔

صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے بتایا ہے کہ نوشہرہ میں ہوئے بم دھماکے کے نتیجے میں آگ لگ گئی اور 18 افراد ہلاک ہوگئے۔ نوشہرہ پولیس کے سربراہ عبداللہ خان نے تصدیق کی ہے کہ نوشہرہ بم دھماکے میں تین بچے بھی ہلاک ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے کی نوعیت اتنی شدید تھی کہ بیکری تباہ ہو گئی جبکہ پاس موجود ایک ریسٹورنٹ کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔ بتایا گیا ہے کہ ہلاک شدگان میں دو فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔

اس سے قبل پشاور کےجنوب میں 20 کلو میٹر دور واقع متنی نامی علاقے میں ہوئے بم دھماکے میں چھ افراد ہلاک جبکہ گیارہ زخمی ہو گئے۔ مقامی پولیس سربراہ نے امکان ظاہر کیا ہے کہ یہ ایک ریموٹ کنٹرول بم تھا، جو ایک بس میں نصب کیا گیا تھا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس