پاکستان: خواجہ سراؤں کو مردم  شماری میں شامل کیا جائے گا | معاشرہ | DW | 09.01.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان: خواجہ سراؤں کو مردم  شماری میں شامل کیا جائے گا

پاکستان میں مارچ کے مہینے میں مردم شماری ہونے جاری رہی ہے۔ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواجہ سراؤں کو بھی مردم شماری میں شامل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے آج پیر کو ایک حکم جاری کیا ہے، جس میں حکومت، نیشنل ڈیٹا بیس اور رجسٹریشن  حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ مارچ میں ہونے والی مردم شماری میں خواجہ سراؤں کی بھی گنتی کریں۔ اس سلسلے میں وقار علی نامی ایک خواجہ سرا نے گزشتہ برس نومبر میں عدالت سے رجوع کیا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ ملک میں رہائش پذیر خواجہ سرا پسماندگی کا شکار ہیں اور ان کے بنیادی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں ملک میں ہونے والی چھٹی مردم شماری میں شامل کیا جائے۔

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے یہ حکم نامہ جاری کرتے ہوئے مخنث برادری کے بنیادی حقوق کو نافذ کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ الماس بوبی ٹرانس جینڈر افراد کے لیے سرگرم ہیں۔ انہوں نے اس پیش رفت پر خوشی کا اظہار کیا، ’’ ہم بہت خوش ہیں کہ مردم شماری میں دوسرے لوگوں کی طرح ہماری بھی گنتی کی جائے گی۔‘‘ ان کے بقول انہیں امید ہے کہ انہیں بھی مساوی شہریت اور مساوی رتبہ حاصل ہو گا۔

پاکستان میں خواجہ سراؤں کی اصل تعداد کے بارے میں تو کوئی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں تاہم ٹرانس ایکشن نامی گروپ کے مطابق ملک کی 190 ملین کی آبادی میں پانچ لاکھ تک خواجہ سرا ہو سکتے ہیں۔