1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان: خواتین کے تحفظ کا قانون، ایک خوش کن پیش رفت

خواتین کو دفاتر گھروں اور سمیت کسی بھی جگہ جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف قومی اسمبلی میں جو بل منظور کیا گیا ہے اس کے تحت مجرم کو تین سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھگتنی پڑے گی۔

default

اس قانون کا مجموعی طور پر خیرمقدم کیا گیا ہے

اس بل کے دیگر مندرجات کے مطابق خواتین کو ہراساں کرنے کے مقدمات کی سماعت درجہ اول مجسٹریٹ کریں گے جبکہ اس حوالے سے کسی شخص کو وارنٹ کے بغیر گرفتار نہیں کیا جا سکے گا۔ مزید برآں جنسی طور پر ہراساں کرنا ایک قابل ضمانت جرم ہو گا اور فریقین باہمی رضا مندی سے عدالت میں مصالحت بھی کر سکیں گے۔ ادھر اراکین اسمبلی اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کےلئے کام کرنے والی تنظیمیں اس بل کو عورتوں کے تحفظ کے لئے انتہائی اہم قدم قرار دے رہی ہیں۔ اس حوالے سے مسلم لیگ ن کی رکن اسمبلی انوشہ رحمان نے بتایا: ’’اس بل کے تحت نہ صرف عوامی جگہوں پر بلکہ پارکوں، کھیتوں، اینٹوں کے بھٹوں، بسوں، ریل گاڑیوں میں سفر کے دوران اگر خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے تو ان کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ ایف آئی آر درج کرائیں اور جو شخص ذمہ دار ہو اور جرم اس پر ثابت ہو جائے تو اس کو تین سال قید ہوگی۔‘‘

دوسری طرف بعض مرد اراکین اسمبلی نے اس بل کی منظوری کا محتاط خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس کے درست استعمال کو یقینی بنانے کےلئے بھی اقدامات ضروری ہوں گے۔ پیپلز پارٹی ہی کے ایک ایم این اے اعجاز ورک نے از راہ مذاق یہاں تک کہہ دیا کہ اب شوہروں کے تحفظ کا بل بھی لانا پڑے گا تاہم خواتین کے حقوق کے تحفظ کےلئے سرگرم کارکن رخشندہ ناز نے اس تاثر کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا: ’’میرے خیال میں شوہروں کے حقوق کے بل کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ یہ ایک ایسی حفاظت ہے جو کہ کسی باپ کو اپنی بیٹی کےلئے چاہئے تو کسی بھائی کو اپنی بہن کےلئے ۔ ۔ ۔ اگر آپ اس تناظر میں دیکھیں تو آپ کو سمجھ آئے گا کہ یہ آپ کی مدد کے لئے ہے۔‘‘

دہشت گردی کے باعث ملک میں عدم استحکام اور غیر یقینی کی صورتحال کے تناظر میں خواتین کو ہراساں کرنے سے ممانعت کا بل پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں ایک خوش کن پیش رفت معلوم ہوتی ہے، البتہ اس کی کامیابی کا دارومدار اس امر پر ہوگا کہ پولیس اور سرکاری حکام اس پر عملدرآمد کس حد تک کروا پاتے ہیں۔

رپورٹ : امتیاز گل، اسلام آباد

ادارت : عاطف توقیر