1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاکستان خواتین کرکٹرز نے طلائی تمغہ جیت لیا

سولہویں ایشیائی گیمز میں آج کھیلے گئے فائنل میں پاکستانی خواتین کرکٹ ٹیم نے بنگلہ دیشی خاتون کھلاڑیوں کی ٹیم کو ہرا کر پاکستان کے لئے پہلا طلائی تمغہ حاصل کر لیا ہے۔

default

گوانگ ژو ایشیائی کھیلوں میں پاکستانی خواتین نے اس وقت تاریخ رقم کر ڈالی، جب انہوں نے ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ کے فائنل میں دس وکٹوں سے بنگلہ دیشی ٹیم کو شکست سے دوچار کیا۔ بنگلہ دیش کی ٹیم نے بیس اوورز میں صرف 92 رنز بنائے۔ پاکستانی ٹیم کی کپتان ثنا میر نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تھا۔

مقررہ بیس اوورز میں بنگلہ دیشی کرکٹرز نے مجموعی طور پر 92 رنز بنائے، جن میں ٹیم کی کیپٹن سلمیٰ خاتون کے سب سے زیادہ یعنی 24 رنز بھی شامل تھے۔ ان کے علاوہ رومانہ احمد نے 16 رنز کی محتاط اننگ کھیلی۔ یہی دونوں خواتین کرکٹرز ڈبل فگر تک پہنچ سکیں اور ان کے درمیان انیس رنز کی شراکت قائم ہوئی۔ پاکستان کی جانب سے کپتان ثنا میر نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ پاکستان کی سب سے کامیاب خاتون بالر ندا راشد تھیں، جنہوں نے تین بنگلہ دیشی خواتین کرکٹرز کو آؤٹ کیا۔ معصومہ جنید اور ثنا گلزار نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

Pakistan Nationalfeiertag

طلائی تمغے کے بعد میدان میں پاکستانی پرچم لہرایا گیا

پاکستان نے جواب میں انتہائی محتاط انداز میں کھیل شروع کیا۔ افتتاحی بلے باز کھلاڑیوں جویریہ خان اور ندا ڈار نے مطلوبہ ہدف بغیر جدا ہوئے حاصل کر لیا۔ ان دونوں کھلاڑیوں کے درمیان 93 رنز کی ناٹ آؤٹ پارٹنر شپ قائم ہوئی۔ اس جیت میں ندا ڈار نے شاندار ناقابل شکست 51 رنز بنائے۔ ان کی پارٹنر جویریہ خان نے انتالیس رنز سکور کئے۔ اپنی نصف سنچری میں ندا ڈار نے سات چوکے بھی لگائے۔ پاکستان خاتون کرکٹرز نے فائنل میچ میں مطلوبہ ٹارگٹ سولہویں اوور میں ہی حاصل کر لیا۔ بنگلہ دیشی ٹیم کی کپتان سلمیٰ خاتون نے کل سات بالرز آزمائے۔

گوانگ ژو ایشیائی کھیلوں میں پاکستانی خواتین نے اپنے ملک کے لئے پہلا طلائی تمغہ حاصل کیا ہے، جو کئی سالوں کے بعد پاکستان کو حاصل ہوا ہے۔ اس کامیابی کے بعد پاکستان اب میڈل ٹیبل پر سترہویں مقام پر پہنچ گیا ہے۔

جاپانی خواتین کرکٹ ٹیم نے تیسری پوزیشن حاصل کی ہے۔ اس نے میزبان چین کی ٹیم کو شکست دے کر کانسی کا میڈل حاصل کیا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس