1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان: حکومت کی تبدیلی، محض قیاس آرائیاں

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اِس مہینے مجوزہ اپنے یورپ کے دورے ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اِس فیصلے سے ذرائع ابلاغ میں گردش کرتی اِن قیاس آرائیوں کو تقویت مل سکتی ہے کہ حکومت دباؤ میں ہے۔

default

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی

خبر رساں ادارے روئٹرز نے اپنے ایک جائزے میں لکھا ہے کہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے سلسلے میں حکومت کی خراب کارکردگی نے پاکستان میں سیاسی استحکام کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے:’’سیلاب کے بعد کی صورتِ حال سے نمٹنے کے سلسلے میں اپنی مصروفیات کے باعث وزیر ا عظم نے پیرس اور برسلز کے دوروں پر نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اُن کے دَورہء فرانس کے لئے نئی تاریخوں پر غور کیا جا رہا ہے۔‘‘ اِس بیان کے مطابق اب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی آئندہ ماہ برسلز میں مجوزہ ایشیا - یورپ سربراہ اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔

Pakistan Außenminister Shah Mehmood Qureshi

اب وزیر اعظم گیلانی کی بجائے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی برسلز کا دورہ کرنے والے پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے

روئٹرز نے آج ہفتے کے روز پاکستانی اخبار ’دی نیوز‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون کا حوالہ دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ’کوئی نہیں جانتا کہ گیلانی نے یہ فیصلہ اچانک کیا ہے یا اُنہیں ایک ایسے وقت پر ملک سے باہر نہ جانے کا مشورہ دیا گیا ہے، جب حکومت کو سیلاب کی وجہ سے ہنگامی نوعیت کی صورتِ حال کا اور حکومت میں تبدیلی کے دباؤ کا سامنا ہے۔

گیلانی کے پریس سیکرٹری شبیر انور نے روئٹرز کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعظم کو اِس ماہ کے اواخر میں ایک چالیس رُکنی وفد لے کر پیرس جانا تھا اور فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی کے ساتھ ملاقات کرنا تھی۔ بعد ازاں یکم اکتوبر سے اِس وفد کو برسلز چلے جانا تھا۔ تاہم اب گیلانی نے پاکستان ہی میں رہنے کا فیصلہ کیا ہے اور سیلاب کے پیشِ نظر مالی وسائل کی بچت کے لئے وفد کے ارکان کی تعداد بھی کم کر دی گئی ہے۔ روئٹرز سے باتیں کرتے وئے شبیر انور نے کہا کہ اِن تمام فیصلوں کا سیاست سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔

Pakistan Flut Katastrophe 2010 Flash-Galerie

پاکستان میں جس بھرپور طریقے سے فوجیوں نے سیلاب کے متاثرین کی مدد کی ہے، اُس سے فوج کی ساکھ بہت بہتر ہوئی ہے

جمہوری حکومت کے ہوتے ہوئے بھی ملکی اَفواج جس طرح سے سکیورٹی معاملات میں مصروفِ کار نظر آتی ہیں اور جس طرح سے سیلاب کے دوران امدادی کارروائیوں کے باعث فوج کی ساکھ بہتر ہوئی ہے، اُس کے بعد سے یہ قیاس آرائیاں زور پکڑتی گئی ہیں کہ شاید فوج پھر سے پاکستان میں حکومت اپنے قبضے میں لینے والی ہے۔ تاہم یوریشیا کنسلٹینسی گروپ کا کہنا ہے:’’فوجی بغاوت کی افواہوں کو سیاسی رنگ میں رنگے جانے والے نجی شعبے کے وہ میڈیا گروپ ہوا دے رہے ہیں، جو صدر آصف علی زرداری کی قیادت میں قائم پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کو کمزور کرنے کی امید کر رہے ہیں۔‘‘

اگرچہ پاکستان کی تاریخ فوجی بغاوتوں کے واقعات سے بھری پڑی ہے تاہم ماہرین کے خیال میں موجودہ حالات میں اِس بات کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ ایسی کسی بھی مہم جُو فوجی حکومت کو نہ صرف ورثے میں سیلاب کی تباہ کاریاں ملیں گی بلکہ اُسے ان تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لئے امداد دینے والے مغربی ملکوں کی ناراضگی کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ یوریشیا کے مطابق فوج البتہ پسِ پردہ رہتے ہوئے سیاسی منظر نامے پر اثر انداز ہونے کی کوششیں ضرور کر سکتی ہے۔

رپورٹ: امجد علی / خبر رساں ادارے

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس