1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان: حکومت مخالف مظاہروں پر دو ماہ کے لیے پابندی

پاکستان میں حکومت مخالف مظاہروں سے پہلے ہی ان پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ احتجاج کرنا ان کا جمہوری حق ہے اور انہیں احتجاج کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کو پاناما لیکس کی وجہ سے اپوزیشن کے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ پاکستان کے سابق مشہور کرکٹر اور موجودہ اپوزیشن لیڈر عمران خان نے دو نومبر کو دارالحکومت میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے کا اعلان کر رکھا ہے، جس کا مقصد وزیراعظم کو مستعفی ہونے پر مجبور کرنا ہے۔

حکومت کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق مفاد عامہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے دو ماہ کے لیے عوامی اجتماعات اور احتجاجی مظاہروں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ حکومت مخالف احتجاج ایک ایسے نازک وقت پر کیا جا رہا ہے، جب ملکی سپریم کورٹ میں ملکی وزیراعظم اور ان کے خاندان کی طرف سے پاناما میں بنائی جانے والی آف شور کمپنیوں کے حوالے سے ایک کیس کی سماعت شروع ہونے والی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت سویلین حکومت کے ملکی فوج سے بھی کوئی اچھے تعلقات نہیں ہیں۔ پاکستان کے اخبار ’دا نیوز‘ کے کالم نگار مشرف زیدی کا کہنا تھا، ’’شریف کی حکومت کو خطرہ، حکومت اور فوج میں تقسیم کا نتیجہ ہے۔‘‘

مشرف زیدی کے مطابق اگر نواز شریف کی حکومت ایسی ہی رہی، جیسی ہے تو یہ نواز حکومت کی فتح ہو گی اور اگر حکومت کو اپنی کابینہ کے کسی رکن کو مستعفی کرنا پڑا تو اس کا مطلب ہوگا کہ نواز حکومت کمزور ہو گئی ہے۔

دوسری جانب حکومتی پابندی کے پاوجود اپوزیشن لیڈر عمران خان کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ احتجاج ان کا آئینی حق ہے اور یہ حق کوئی بھی ان سے نہیں چھین سکتا۔ اسلام آباد میں اپنے طے شدہ احتجاجی جلسے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا، ’’یہ ایک فیصلہ کن اور تاریخی اجتماع ہو گا۔ لوگ وزیراعظم کے احتساب کے عزم کے ساتھ آئیں گے۔‘‘

’دو نومبر کو اسلام آباد بند نہیں ہوگا، تھرڈ امپائر صرف عدلیہ ہے‘

قبل ازیں آج ہی اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی خواہش کے برعکس دارالحکومت اسلام آباد کی انتظامیہ کو احکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو نومبر کو اسلام آباد بند نہیں ہونا چاہیے۔ قبل ازیں عمران خان نے کہا تھا کہ وہ احتجاج کرتے ہوئے اسلام آباد بند کر دیں گے۔

DW.COM