1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان ’جیش العدل‘ کے خلاف سخت کارروائی کرے، ایران

ایرانی وزارت خارجہ نے پاکستانی علاقے سے سنی عسکریت پسندوں کے مبینہ حملے میں دس ایرانی سرحدی محافظوں کی ہلاکت پر پاکستان سے احتجاج کرتے ہوئے عسکریت پسند گروہ ’جیش العدل‘ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

Iran Grenzschützer (MIZAN)

جیش العدل نامی عسکریت پسند گروہ ماضی میں بھی ایرانی سکیورٹی فورسز پر حملے کر چکا ہے

ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق تہران میں تعینات پاکستانی سفیر آصف علی خان درانی کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔

 سنی عسکریت پسند گروہ جیش العدل نے بدھ کے روز ایرانی صوبے سیستان بلوچستان میں سرحدی گارڈز پر کیے گئے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ ’ارنا‘ نے وزارتِ خارجہ کے ترجمان بہرام  قاسمی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ،’’ ایران توقع رکھتا ہے کہ پاکستان ہمارے دس سرحدی گارڈز کی ہلاکت کے ذمہ دار دہشت گروہ کی گرفتاری اور اُنہیں سزا دینے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کرےگا۔‘‘

ایرانی صوبے سیستان بلوچستان کی سرحد پاکستان اور افغانستان دونوں سے ملتی ہے۔ ایران کے ان سرحدی علاقوں میں منشیات کے اسمگلر بھی بہت فعال ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان سے مشرق وسطیٰ، یورپ اور شمالی افریقہ تک افیون اور ہیروئن کی اسمگلنگ کے لیے یہ روٹ انتہائی اہم ہے۔

Hassan Rouhani (picture-alliance/Kremlin Pool)

ایرانی صدر حسن روحانی نے پاکستانی وزیرِاعظم سے ایرانی گارڈز کو ہلاک کرنے والے دہشت گرد گروہ کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے

ایرانی صدر حسن روحانی نے بھی پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف سے دس ایرانی گارڈز کو ہلاک کرنے والے دہشت گرد گروہ ’جیش العدل‘ کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

جیش العدل نامی عسکریت پسند گروہ ماضی میں بھی ایرانی سکیورٹی فورسز پر حملے کر چکا ہے۔ یہ گروہ ایران پر سنی مسلمانوں اور بلوچوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھنے کا الزام عائد کرتا ہے جبکہ ایران اس الزام کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔

DW.COM