1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان، جہاں کبوتروں کی شکل میں خواب اڑان بھرتے ہیں

پاکستان بھر میں کبوتروں کی پرواز اور مقابلوں میں حصہ لینے کا رجحان بڑھا ہے اورشائقین کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

Pakistan Tauben Meisterschaft

فلموں اور کہاوتوں میں کبوتر، حرم سراؤں میں بھیجے جانے والے محبت بھرے خطوط سے وابستہ رہے ہیں

پاکستان کے ثقافتی دارالحکومت لاہور میں واقع ایک گھر کی چھت سے کبوتروں کے ایک جھنڈ نے اڑان بھری اور نظروں سے غائب ہونے سے پہلے تک شہر میں مغلیہ دور کے میناروں کے اوپر اڑتے نظر آتے رہے۔ ان پرندوں کو اگر تحمل اور برداشت کا علمبردار کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ پاکستان بھر میں کبوتروں کی اڑان کے مقابلوں کے حوالے سے شوق اور جذبے میں اضافہ ہوا ہے۔ کبوتر بازی کے رسیا اور اس موضوع پر پاکستان میں لکھی جانے والی واحد کتاب کے مصنف اخلاق خان نے اے ایف پی سے بات چیت کے دوران کہا، ’’یہ کسی معاشقے کی طرح ہے۔‘‘ خان نے رنگین سر اور سفید جسم والے ایک پرندے کو جھولا جھلاتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی، ’’آپ کو ان پرندوں میں کوئی فرق نظر نہیں آ رہا ہو گا لیکن میں ہر پرندے کے پر اور آنکھیں دیکھ کر اس کا مول بتا سکتا ہوں۔‘‘

اخلاق خان لاہور کے ایک سر سبز علاقے کے رہائشی ہیں جہاں ان کی چھت پر پنجاب کی سخت گرمی میں بھی سینکڑوں پرندے ہلکے نیلے رنگ کے بھاری بھرکم پنجروں میں بند چہچہاتے رہتے ہیں۔

فلموں اور کہاوتوں میں کبوتر، حرم سراؤں میں بھیجے جانے والے محبت بھرے خطوط سے وابستہ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ماضی میں بادشاہوں کی طرف سے اپنے سر کردہ جنگجوؤں کو فوجی احکامات پہنچانے کا ذریعہ بھی کبوتر ہی ہوا کرتے تھے۔ خان نے سولہویں صدی عیسوی کے اوائل سے انیسویں صدی کے وسط تک برصغیر میں مسلمان حکمرانوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’بھارت میں پیغام رساں پرندوں کا تعارف مغلیہ دور میں ہوا۔‘‘ خان کا کہنا تھا کہ مغل فرمانروا اکبر اعظم کو کبوتروں کا جنون کی حد تک شوق تھا اور اس کے دربار کے ایک عالم کے مطابق اس کے پاس مختلف اقسام کے قریب بیس ہزار کبوتر تھے۔

Pakistan Tauben Meisterschaft

اخلاق خان کے گھر کی چھت پر سینکڑوں پرندے پنجروں میں چہچہاتے رہتے ہیں

کبوتروں کے شائقین کبوتروں کی درجہ بندی دو طرح سے کرتے ہیں۔ ایک وہ جو مقابلہ پرواز کی صلاحیت کی وجہ سے مشہور ہیں اور دوسرے وہ جن کے دام ان کی خوبصورتی کے باعث لگائے جاتے ہیں۔ ملک بھر میں لاکھوں شائقین کم اور زیادہ اونچائی کی پرواز اور دوڑ کے مقابلوں کے گرویدہ ہیں۔ ان مقابلوں میں مخالفین ایک دوسرے کے پرندوں کو بھٹکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ایک غیر معمولی مشغلہ ہے جو مختلف سماجی پس منظر کے لوگوں کو ایک جگہ اکٹھا کرتا ہے۔ یہاں کھیل کے ماہر اکثر ان پڑھ جبکہ مالکان امیر ہوتے ہیں۔ ایک اچھے کبوتر کی قیمت کئی سو ڈالر تک ہو سکتی ہے جو بہت سے پاکستانیوں کی کئی ماہ کی تنخواہ کے برابر ہے۔ ملک بھر میں کبوتر بازی کے شوقین افراد اور پرندوں کے پنجرے شہروں کے پرانے علاقوں کے گھروں کی چھتوں پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ پاکستانی کبوتر اور ماہرین کو خلیجی ممالک میں ہونے والے مقابلوں کے لیےعرب کے شاہی خاندانوں کی جانب سے بھی بلایا جا چکا ہے۔

DW.COM