1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان: تین سو سے زائد ہلاکتیں، دو ہزار سے زائد زخمی

گزشتہ روز آنے والے زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ صرف پاکستان میں تین سو سے زائد افراد ہلاک جبکہ دو ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ تباہی صوبہ خیبر پختونخوا میں ہوئی ہے۔

پاکستانی حکام نے ملک بھر میں تین سو دس ہلاکتوں کی تصدیق کر دی گئی ہے جبکہ اس میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ زخمیوں کی تعداد دو ہزار سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اس صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر ایک سو بانوے تک پہنچ گئی ہے۔ صوبائی حکومت کے ترجمان اور وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات مشتاق احمد غنی کا کہنا تھا، ’’صوبائی حکومت نقصانات کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے جبکہ ابتدائی طور پر متاثرین کو خیمے، اشیائے خورد ونوش اور کمبل وغیرہ فراہم کیے جا رہے ہیں۔ صوبہ بھر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے جبکہ مرنے والوں کے لواحقین کے لئے فی کس تین لاکھ جبکہ زخمی ہونے والوں کو ایک ایک لاکھ روپے امداد دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔‘‘

صوبائی حکومت نے مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن کے بعض پہاڑی علاقوں میں آفٹر شاکس کے خدشات کے باعث تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کی ہدایت کی ہے جبکہ پشاور سمیت صوبے کے کئی اضلاع میں سکولوں اور تعلیمی اداروں کی عمارتوں میں دراڑیں پڑنے کی وجہ سے انہیں خالی رکھا جا رہا ہے۔ صوبائی حکومت نے لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند سڑکوں کو کھولنے کے لئے مختلف ٹیمیں روانہ کی ہیں۔

ادھر وزیر اعظم میاں نواز شریف غیر ملکی دورے سے واپس پہنچنے کے بعد مالاکنڈ کے ضلع شانگلہ پہنچے، جہاں قدرتی آفات سے نمٹنے والے وفاقی ادارے کے سربراہ نے انہیں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ متاثرین کو خیموں اور کمبلوں کی فراہمی کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اس موقع پر موجود علاقے کے عوام سے وعدہ کیا کہ وہ ’’صوبائی حکومت سے مل کر باہمی مشاورت سے بحالی کے لئے اگلے دو تین دن میں ایک جامع منصوبہ بنائیں گے۔‘‘

ادھر پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بھی پشاور پہنچے۔ انہوں نے پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں زیر علاج زخمیوں کی عیادت کی۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا، ’’میں وزیر اعلیٰ کے ساتھ سوات اور شانگلہ جارہا ہوں، جہاں زیادہ نقصانات ہوئے ہیں۔‘‘

دوسری جانب متاثرہ افراد کے لئے اشیائے ضرورت لے کر درجنوں غیر سرکاری تنظیمیں متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئی ہیں۔ کئی اداروں کی جانب سے میڈیکل کیمپس لگائے گئے ہیں، جو زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کررہے ہیں۔ پنجاب کی صوبائی حکومت کی جانب سے بھی مختلف امدادی سامان کے ٹرک پشاور میں صوبائی حکومت کے حوالے کئے گئے ہیں۔ جہاں سول اور غیر سرکاری امدادی ادارے متاثرین کی امداد کے لئے متحرک رہیں، وہاں فوجی حکام نے بھی مختلف علاقوں کے دورے کیے۔ کور کمانڈر پشاور ہدایت الرحمان بھی سوات میں امدادی کاموں کا جائزہ لینے کے لئے پہنچے۔ اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’بہت بڑی آزمائش ہے، کافی سارے لوگ تکلیف میں ہیں لیکن سب مل کر اس آزمائش کا مقابلہ کریں گے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ تقریباﹰ تمام روڈز کھول دیے گئے ہیں جبکہ آرمی اور سول میڈیکل ٹیمیں ہر جگہ پہنچ چکی ہیں، ’’ بعض علاقوں میں آرتھوپیڈک اسپشلسٹس کی کمی ہے، جو آج شام یا پھر کل صبح تک پہنچ جائیں گے۔ انکا مزید کہنا تھا، ’’جہاں تک اس زلزلے سے ہونے والے نقصان کی بات ہے تو ابھی انفراسٹرکچر کے نقصان کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ زلزلہ بہت بڑا تھا لیکن اس کے مقابلے میں یہ نقصان کافی کم ہے۔‘‘

قدرتی آفات کے صوبائی ادارے نے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن میں کئی ایسے علاقے ہیں، جہاں ابھی تک رسائی ممکن نہیں ہوئی۔