1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان: توہینِ رسالت کا قانون اور چند حقائق

پاکستان میں بدھ کے روز وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی کے قتل کے بعد توہینِ رسالت کا متنازعہ قانون ایک مرتبہ پھر زیرِ بحث آ گیا ہے۔

default

مقتول پاکستانی وزیر شہباز بھٹی

بظاہربھٹی کو بھی سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی طرح توہینِ رسالت کے قانون میں ترامیم کے مطالبے پر قتل کیا گیا ہے۔

پاکستان میں توہینِ رسالت کے اس متنازعہ قانون کے حوالے سے چند حقائق درجِ ذیل ہیں:

۔ سن انیس سو ستائیس میں برطانوی راج کے وقت انگریزوں نے برصغیر میں دانستہ طور پر مذاہب کی توہین کو جرم قرار دیا تھا تاہم اس قانون میں مختلف مذاہب میں تفریق نہیں کی گئی تھی۔

۔ انگریزوں کے بنائے گئے اس قانون کو پاکستان بننے کے بعد بھی قائم رکھا گیا۔

۔ پاکستان کے سابق فوجی آمر اور صدر جنرل محمّد ضیا الحق نے1977ء میں اقتدار پر قابض ہونے کے بعد اس قانون میں کئی اضافے کیے، جن میں سے ایک مسلمانوں کی مقدّس کتاب قرآن کی توہین کرنے پر عمر قید کی سزا رکھی گئی تھی۔

۔ انیس سو چوراسی میں احمدی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد پر خود کو مسلمان کہنے پر پابندی عائد کردی گئی اور ایسا کہنے والے کے لیے تین برس کے لیے جیل کی سزا مقرر کی گئی۔

۔ انیس سو چھیاسی میں ضیا الحق نے توہینِ رسالت کرنے والے افراد کے لیے موت کی سزا اس قانون میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی تھی، جسے بعد ازاں 1992ء میں نواز شریف کی حکومت نے ایک قرارداد کے ذریعے منظور کر لیا۔

۔ انیس سو ستائیس سے لے کر انیس سو پچاسی تک متحدہ ہندوستان اور پاکستان میں توہینِ مذاہب سے متعلق دس مقدمے درج کیے گئے، جب کہ انیس سو پچاسی سے اب تک عدالتیں اس حوالے سے چار ہزار سے زیادہ مقدموں کی سماعت کر چکی ہیں۔

۔ آسیہ بی بی نامی مسیحی خاتون کو پنجاب کی ایک عدالت نے توہینِ رسالت کے الزام میں نومبر دو ہزار دس میں سزائے موت سنائی۔

۔ پانچ جنوری دو ہزار گیارہ کو اسلام آباد میں پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کو آسیہ بی بی کی حمایت کرنے اور توہینِ رسالت میں ترمیم کے مطالبے کی پاداش میں انہی کے محافظ نے گولیاں مار کر ہلاک کردیا۔

۔ دو مارچ کو پاکستان کے وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی کو دن دہاڑے اسلام آباد میں گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا۔ بھٹّی کا تعلق پاکستان کی مسیحی برداری سے تھا اور وہ بھی توہینِ رسالت کے قانون میں ترمیم کا مطالبہ کر رہے تھے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM