1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان تنہا نہیں ہوا : وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے مطابق یہ تاثر غلط ہے کہ اسامہ بن لادن کے واقعے کے بعد پاکستان تنہا ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق یورپی یونین، برطانیہ، چین اور سعودی عرب نے کھل کر پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

default

یوسف رضا گیلانی کا پارلیمان سے خطاب

القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کو9 روز گزر جانے کے باوجود اس واقعہ کی بازگشت دنیا بھر کی طرح پاکستان کے ایوانوں میں اب بھی گونج رہی ہے۔ پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی کے بعد ایوان بالا یعنی سینٹ کو بھی ایبٹ آباد آپریشن کے حوالے سے اعتماد میں لیا ہے۔ آج سینٹ میں تقریر کرتے ہوئے وزیراعظم گیلانی کا کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستان کو سخت چیلنجز کا سامنا ہے اور سب کو مل کر ان سے نمٹنا ہوگا۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ " برسلز سے جو بیان آیا اس میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی تنہا جو کوششیں ہیں وہ نیٹو کی مشترکہ کوششوں سے زیادہ ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی حمایت کا اعلان کیا ہے، برسلز کی طرف سے آنے والا پیغام ایک ملک کی طرف سے نہیں بلکہ پوری یورپی یونین کی طرف سے تھا۔"

USA Elitetruppe Navy SEALS Kampftraining Hubschrauber

اسامہ کے خلاف امریکہ کے آپریشن کے بعد سے پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی

وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ اسامہ بن لادن پاکستان کا شہری نہیں تھا اور نہ ہی اس کا اپنا ملک اسے شہری تسلیم کرنے پر تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی کو بھی یہ موقع فراہم نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ہم پر انگلی اٹھا سکے۔ دوسری جانب سینٹ میں ایبٹ آباد آپریشن پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ اسامہ کے خلاف کارروائی کے بعد تمام قومی اداروں کے مابین یکجہتی ہونی چاہیے انہوں نے کہا کہ کہ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اسامہ بن لادن کی بیواؤں تک رسائی دینے کا نہیں کہا جبکہ وزیرداخلہ کا کہنا ہے کہ پاکستان امریکہ کو اسامہ کی بیواؤں تک رسائی دینے کے لیے تیار ہے۔ پیپلز پارٹی ہی کے ایک اور سینیٹر لشکری رئیسانی کا کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن کی پردہ دار بیواؤں کو امریکہ کے حوالے کرنا بڑی غلطی ہوگی۔ انہیں باعزت طور پر اپنے اپنے ممالک بھیج دینا چاہیے۔

EU Libyen Catherine Ashton im EU-Parlament in Straßburg

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی نگراں کیتھرین ایشٹن نے مشرق وسطیٰ سمیت پاکستان میں جمہوریت کی حمایت کا یقین دلایا ہے

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایبٹ آباد آپریشن کی تحقیقات کے لیے مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل قومی تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل ضروری ہے تا کہ عوام میں پائے جانیوالے ابہام دور کیے جا سکیں۔ اس بارے میں دفاعی تجزیہ نگار طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ" لوگوں کو یہ تشویش لاحق ہے کہ قومی سطح پر بھی کوئی پینل ہے یا نہیں؟ یا صرف ساری ذمہ داری الگ الگ اداروں کو ہی دی گئی ہے کہ وہ اس کی تحقیقات کریں۔ تو ہونا بھی ایسا ہی چاہیے اور توقع بھی یہی ہے کہ تحقیقات کے لیے قومی سطح پر کمیشن قائم کیا جائے۔"

دریں اثناء اسلام آباد میں ایبٹ آباد آپریشن کے بعد وزیراعظم کی زیرصدارت میں وفاقی کابینہ کا پہلا اجلاس بھی منعقد ہوا۔ اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیراطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم نے کابینہ کے ارکان کو ایبٹ آباد آپریشن کے حوالے سے اعتماد میں لیا ہے جبکہ اس کے بعد کی صورتحال اور کل ہونے والے کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس کے علاوہ جمعے کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس