1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان: بے نظیر بھٹو کے قتل کے ایک سال بعد

ایک سال پہلے بے نظیر بھٹو کے قتل کے فوراً بعد پاکستان میں ایک جمہوری حکومت قائم ہو گئی تھی لیکن ابتدا ہی سے یہ حکومت بحرانوں کے ایک ایسے جال میں پھنس گئی ہےجس نے ملک کے مستقبل کو ہی خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔

default

بے نظیر بھٹو اپنی وفات سے کچھ روز پہلے اسلام آباد کے زرداری ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس میں

صدر آصف علی زرداری کی قیادت میں تشکیل پانے والی حکومت عوام کی بھاری حمایت کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی لیکن آج بہت سے حلقوں کے مطابق یہ حکومت وہ وعدے پورے نہیں کر سکی، جومقتول خاتون رہنما نے ایک خود کُش خملے میں اپنی ہلاکت سے پہلے کئے تھے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے باتیں کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ نگار حسن عسکری کہتے ہیں: ’’زرداری کے لئے عوام کے جذبہء خیر سگالی میں لگتا ہے، کچھ کمی ہوئی ہے۔ وہ اِس لئے کہ حکومت غالباً اُن مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے، جن کا عام عوام کو سامنا ہے۔‘‘

Pakistan Explosion einer Bombe in Lahore

پاکستان میں دہشت گردوں کے خود کش بم حملےابھی تک جاری ہیں

گذشتہ بارہ مہینوں میں عوام کے مصائب میں بے انتہا اضافہ ہو گیا ہے۔ پچاس سے زیادہ خود کُش حملوں میں شہریوں کی ہلاکتوں، حکومت کو درپیش شدید اقتصادی مشکلات، خوراک کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے اور بجلی کی مسلسل جاری لوڈ شیڈنگ نے عام شہری کی زندگی اجیرن کر کے رکھ دی ہے۔

ایک طرف قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کی کارروائیاں اور بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے تو دوسری جانب حکمران پاکستان پیپلز پارٹی اور اُس کی سابقہ اتحادی جماعت کے درمیان محاذ آرائی۔

امریکہ میں قائم ایک ریسرچ گروپ (IRI) انٹرنیشنل ری پبلکن انسٹی ٹیوٹ کےایک حالیہ سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہر دَس میں سے تقریباً نو پاکستانیوں کے خیال میں ملک غلَط سمت میں جا رہا ہے۔ سروے میں محض اُنیس فیصد نے زرداری کی حمایت کی۔

اسلام آباد میں قائم قائد اعظم یونیورسٹی کے اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے شعبے کے سربراہ رفعت حسین نے اے ایف پی سے باتیں کرتے ہوئے کہا:’’مقامی سطح کی دہشت گردی، انتہا پسندی اور مذہبی عسکریت پسندی بدستور ریاستی اقتدار کو چیلنج کر رہی ہیں۔ نئی حکومت اِن مسائل پر کسی بھی طرح سے قابو پانے میں ناکام ہو گئی ہے۔ لوگ زرداری کے طرزِ حکومت سے مایوس نظر آتے ہیں، جس میں ایک طرح کی مطلق العنانیت بھی ہے اور دُور اندیشی کا فُقدان بھی۔‘‘

Pakistans Präsident Pervez Musharraf

بے نظیر بھٹو اپنی زندگی میں صدرپرویز مشرف کو اقتدار سے علیحدہ نہ کرسکیں

تجزیہ نگار حسن عسکری اِس تجزیے سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تین ماہ پہلے جب مواخذے کے خطرے سے بچنے کے لئے فوجی حکمران پرویز مشرف اپنے عہدے سے مستعفی ہوئے اور زرداری صدر کے عہدے پر فائز ہوئے تو وہ اِس کے لئے پوری طرح سے تیار نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ وہ عوام کا اعتماد کھو چکے ہیں۔

عسکری کہتے ہیں: ’’زرداری کا انتظام و انصرام کا اپنا ایک الگ ہی انداز ہے، جس میں وہ میرٹ سے زیادہ وفاداری پر زور دیتے ہیں۔ اِس کا نتیجہ یہ ہے کہ ملک میں جمہوری عمل کے مستحکم ہونے کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔‘‘

ستائیس دسمبر سن دو ہزار سات کو راولپنڈی میں ایک جلسے کے بعد بے نظیر بھٹو کی ایک حملے میں ہلاکت کے نتیجے میں عام انتخابات چھ ہفتے تک کے لئے ملتوی کر دئے گئے تھے۔ فروری میں انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی نئی قیادت نے اِس سال کا آغاز اچھے انداز میں کیا۔ پی پی پی نے ملک کی دوسری بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت تشکیل دی، جس کی قیادت سابق وزیر اعظم نواز شریف کر رہے تھے۔

تاہم جب پی پی پی نے مشرف کی نافذ کردہ ایمرجینسی کے دوران معزول کئے گئے ججوں کو بحال کرنے اور فوجی جنرل کی جانب سے کی گئی آئینی ترامیم ختم کرنے سے انکار کر دیا تو اگست میں مسلم لیگ نون بطورِ احتجاج حکومت سے نکل گئی۔

گذشتہ ہفتے جیو ٹیلی وژن کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں نواز شریف نے حکومت پر تنقید کی اور کہا:’’ملک ایک ناکام ریاست کی شکل اختیار کرتا نظر آ رہا ہے۔‘‘

Pakistan Ehemaliger Premierminister Nawaz Sharif

پرویز مشرف کی مخالفت میں بےنظیر کے اتحادی رہنما اور مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف جو زیادہ عرصے تک آصف زرداری کے ہم خیال نہ رہ سکے

اب تک زرداری اور اُن کی ٹیم ملک کو معیشت، سیاست اور سلامتی کے شعبوں میں درپیش بحرانوں کے لئےمشرف کے نو سالہ دَورِ اقتدار کو موردِ الزام ٹھہراتی رہی ہے، تاہم تجزیہ نگار حسن عسکری کے بقول:’’جیسے جیسے وقت گذر رہا ہے، حکومت موجودہ مسائل کے لئے مشرف حکومت کی غلط پالیسیوں کو قصور وار نہیں ٹھہرا سکے گی۔‘‘

ایک اور سیاسی تجزیہ نگار رسول بخش رئیس کے خیال میں بے نظیر بھٹو زندہ ہوتیں تو وہ موجودہ بحرانی حالات سے زیادہ کامیابی کے ساتھ نمٹ سکتی تھیں۔ لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز میں سیاسیات کے اُستاد رئیس نے کہا:’’اگر وہ زندہ ہوتیں تو بہت سے مسائل حل ہو جانا تھے۔‘‘

’’وہ پاکستان کے ایک ایسے چہرے کی علامت تھیں، جو بہت ہی واضح اور جدید تھا۔ بین الاقوامی رہنماؤں کے ساتھ اُن کے قریبی روابط، اُن کا موقف اور اُن کی کرشماتی شخصیت اتنے مستحکم اور شاندار تھے کہ اُن کے کئے ہوئے اقدامات یا اُن کی کہی ہوئی بات کو کوئی رَد نہیں کر سکتا تھا۔ ‘‘

اُنہوں نے کہا:’’آج پاکستان بے نظیر بھٹو کی کمی بری طرح سے محسوس کر رہا ہے۔‘‘