1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان بہت اہم ملک ہے، کیتھرین ایشٹن

دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی جنگ اور افغانستان میں طالبان کے خلاف نیٹو قیادت میں جاری کارروائیوں میں پاکستان کے کردار کے تناظر میں یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی اہمیت کو کم نہیں کیا جا سکتا۔

default

یورپی یونین کی سربراہ برائے خارجہ امور کیتھرین ایشٹن

یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے یونین کے وزرائے خارجہ کو ایک خط تحریر کیا ہے جس میں کہا ہے کہ پاکستان بہت اہمیت کا حامل ملک ہے اور اس کی مجموعی صورت حال کو ترجیحی بنیاد پر وزرائے خارجہ کے آئندہ اجلاس میں زیر بحث لایا جائے۔ ایشٹن کا مزید کہنا ہے کہ یورپی یونین انسداد دہشت گردی میں پاکستان کو ایک اہم اتحادی تصور کرتا ہے اور افغانستان میں جاری جنگ میں بھی پاکستانی کردار کومنفی نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا اس تناظر میں ایک مناسب پالیسی اختیار کرنا ضروری ہے۔

دوسری جانب پاکستان یورپی یونین سے کاروباری معاملات میں زیادہ آسانیاں طلب کر رہا ہے اور اس مناسبت سے یونین میں پالیسی سازی کا عمل انتہائی سست روی سے جاری ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے دورہ برسلز کے موقع پر اس حوالے

Pakistan Ministerpräsident Yousaf Raza Gilani

پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی

سے خاصی بات ہوئی تھی لیکن کامیابی پاکستان کو حاصل نہیں ہو سکی تھی۔ یونین اور کمیشن کے صدور نے یوسف رضا گیلانی کے ساتھ نیوز کانفرنس میں پاکستان کو تجارتی مراعات دینے کا معاملہ کچھ وقت کے لئے مؤخر کردیا تھا۔

کیتھرین ایشٹن نے اپنے خط میں مزید تحریر کیا ہے کہ پاکستان کو ترقیاتی معاملات میں امداد کی خاصی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزرائے خارجہ کے آئندہ اجلاس کے ایجنڈے پر پاکستان کو ترجیحی بنیادوں پر شامل کرنا ضروری ہے۔ یونین کے وزرائے خارجہ کے آئندہ اجلاس میں بھارت اور چین کے ساتھ سٹریٹیجک شراکت کو زیر بحث لایا جائے گا۔

اس مناسبت سے سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزرائے خارجہ کے اجلاس میں پاکستان کے لئے یورپی یونین کی جانب سے امداد کے دائرے کو وسعت دینے پر بات ہو سکتی ہے۔ اس میں اقتصادی مددکے ساتھ ساتھ طویل المدتی ترقیاتی پراجیکٹ بھی شامل کئے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ تجارتی مراعات دینے کا فیصلہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس