پاکستان: بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی ختم | فن و ثقافت | DW | 29.01.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

پاکستان: بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی ختم

پاکستانی حکومت نے بھارتی فلموں کی در آمد اور  نمائش پر کئی ماہ سے عائد پابندی ختم کر دی ہے۔ یہ پابندی کشمیر کے مسئلے پر دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں لگائی گئی تھی۔

پاکستان میں اطلاعات و نشریات کی وفاقی وزیر مریم اورنگزیب نے آج اتوار کے روز اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سن 2007 کے فیصلے کی پاسداری کرتے ہوئے ملک میں بھارتی فلموں کی نمائش پر عائد  پابندی اٹھا رہی ہے۔ مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ پاکستانی فلمی صنعت کو بھارتی سینما نے نئی  زندگی اور مضبوطی  بخشی ہے۔

 پاکستان میں ’ہم فلمز‘ کے نصر خان نے جو بھارتی فلموں کی درآمد اور نمائش کے کام سے منسلک ہیں، اس اعلان کا خیر مقدم کیا۔ نصر خان نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی ڈسٹری بیوشن کمپنی نے حکومت سے این او سی کی درخواست کی ہے جو پاکستان میں دکھائی جانے والی تمام فلموں کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ خان کا کہنا تھا کہ وہ تازہ ترین ریلیز ہونے والی بھارتی فلم ’قابل‘ کو پاکستان میں پردہ سیمیں کی زینت بنانا چاہتے ہیں۔

جنوبی ایشیا کی دو ہمسایہ لیکن حریف ایٹمی طاقتوں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں گزشتہ چند ماہ میں خاصا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ گزشتہ برس ستمبر کے مہینے میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اُڑی کے مقام پر ایک ملٹری بیس پر  مبینہ طور پر کشمیری عسکریت پسندوں کے ایک خونریز حملے کے بعد بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر ’سرجیکل اسٹرائیکس‘ کی ہیں۔

 پاکستانی حکومت اور فوج نے نئی دہلی کے اس دعوے کو سختی سے رد کر دیا تھا۔ تب سے دونوں ممالک کے درمیاں ثقافتی روابط بھی متاثر ہوئے ہیں۔ پاکستان میں ٹی وی اور ریڈیو پر کسی بھی طرح کا بھارتی مواد چلانے پر مکمل پابندی کا اطلاق گزشتہ برس اکيس اکتوبر سے کیا گیا تھا۔

DW.COM