1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاکستان بنام انگلینڈ: شارجہ میں جارحانہ کھیل ہوگا، کوچ

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تیسرا اور اہم ترین معرکہ منگل کو شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم میں ہو رہا ہے۔ پہلا میچ چھ وکٹوں سے ہارنے کے بعد انگلینڈ نے بذریعہ الیکس ہیلز کی سینچری ابوظہبی میں ہی سیریز ایک ایک سے برابر کر دی تھی۔

شیخ زید اسٹیڈیم میں ہونیوالے دونوں میچوں میں پاکستان کے چوٹی کے بیٹسمین دو نئی گیندوں کے سامنے بے بس نظرآئے۔ بدھ کو پہلے دس اوورز میں تین وکٹیں گنوانے کے بعد دوسرے ون ڈے میں پاکستانی ٹیم پاور پلے میں پھر دو وکٹ گنوا کر صرف انیس رنز بنا سکی۔

پیر کو شارجہ میں اسٹیڈیم میں پاکستانی ٹیم کے کوچ وقار یونس کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹسمینوں کو جارحانہ انداز اپنانے کی ضرورت ہے۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے وقار نے کہا کہ عصر حاضر کی کرکٹ میں وکٹیں گرنے کے باوجود آپ کو رنز بناتے رہنا پڑتا ہے۔ پاکستانی کھلاڑیوں کو دوسرے میچ کی غلطیوں سے سیکھنا ہوگا۔

واضح رہے کہ ابوظہبی کے دوسرے ون ڈے میں دو سو چوراسی کے ہدف کا پیچھا کرتے ہوئے پہلے انتیس اوورز میں پاکستان کے رنز بنانے کی شرح تین رن فی اوور سے بھی کم رہی۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باؤلر وہاب ریاض نے ڈی ڈبلیو سے شارجہ اسٹیڈیم میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انگلینڈ کے دونوں اوپننگ فاسٹ باؤلرز ولی اور ٹوپلی ناتجربہ کار ہیں اور پاکستانی بیٹسمینوں کو شروع میں ہی انہیں دباؤ میں لینا ہوگا۔

Pakistan Shrajah Cricket Zafar Gowhar

زخمی ہونیوالے لیگ اسپنر یاسر شاہ کی جگہ نئے کھلاڑی ظفرگوہرکو ٹیم میں شامل کیے جانے کا امکان ہے

ایک سوال کے جواب میں وہاب ریاض نے بتایا کہ دوسرا میچ ہارنے کے بعد پاکستانی ٹیم کسی دباؤ کا شکار نہیں، ’’کھلاڑیوں کو اپنی غلطیوں کا احساس ہوچکا ہے۔ ہم اچھی کرکٹ کھیلتے آرہے ہیں۔ ایک میچ ہارنا کوئی بڑی بات نہیں۔ منگل کے معرکے میں ہم ایک مختلف ٹیم نظر آئیں گے۔‘‘

تیس سالہ وہاب ریاض نے اس دورے میں ٹیسٹ اور ون ڈے میچوں میں خیلج کی بے جان وکٹوں پر تباہ کن باؤلنگ کی ہے۔ جمعہ کو انہوں نے تینتالیس رنز دیکر تین کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ وہاب نے بتایا، ’’یہاں کی پچز پر فاسٹ باؤلنگ کرنا آسان نہیں لیکن میں کوشش کرتا ہوں کہ اپنی صلاحیتوں اور ٹیم کے ساتھ انصاف کروں۔ ایسا کرنے سے اچھے نتائج ملے ہیں۔‘‘

پاکستان ٹیم کی ورلڈ رینکنگ آٹھ ہے۔ وہاب کے مطابق ورلڈ کپ کے بعد ٹیم نئی بن رہی ہے۔ اس لیے فی الحال رینکنگ کی بجائے کھلاڑیوں کی کاوشوں کو دیکھنا چاہیے، ہر کوئی جان توڑ محنت کر رہا ہے۔ اس ٹیم کو وقت دیں، ٹیسٹ کی طرح ون ڈے رینکنگ بھی بہتر ہو جائے گی۔‘‘

شارجہ میں پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیمیں منگل کو سولہ سال کے طویل عرصے کے بعد ون ڈے میچ کھیلیں گی۔ انیس سو ننانوے میں شارجہ میں آخری بار پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف ایک متنازعہ ڈے نائٹ میچ میں شکست ہوئی تھی، جس کے بعد جاوید میانداد کو ٹیم کی کوچنگ سے ہاتھ دھونا پڑے۔

پاکستان نے شارجہ میں جاوید میانداد کے تاریخی چھکے سے وسیم اکرم کی دو ہیٹرکس تک گز شتہ صدی میں کئی یادگار کامیابیاں حاصل کیں۔ لیکن گزشتہ برس پاکستان کو یہاں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ دونوں سے شکست ہو چکی ہے۔ پیر کو شارجہ کا موسم خوشگوار رہا۔ ویک اینڈ پر ہونیوالی بارش کے بعد وہاں درجہ حرارت کم ہو رہا ہے اور دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ شارجہ کی وکٹ دیکھنے میں سرمئی اور سست نظر آرہی ہے۔

پاکستان ٹیم میں تیسرے میچ کے لیے ایک تبدیلی متوقع ہے اور زخمی ہونیوالے لیگ اسپنر یاسر شاہ کی جگہ نئے کھلاڑی ظفرگوہرکو ٹیم میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ آج پاکستانی کھلاڑیوں نے دوپہر کو دبئی سے شارجہ پہنچ کر شام تک فیلڈنگ اور بیٹنگ پریکٹس کی۔ دن ڈھلنے پر انگلینڈ کی ٹیم بھی شارجہ پہنچ گئی اور انگریز کھلاڑیوں نے فلڈ لائٹس میں ٹریننگ کی۔ میچ پاکستانی وقت کے مطابق سہہ پہر چار بجے شروع ہوگا۔ میچ کے حوالے سے شارجہ شہر میں بسنے والے پاکستانی تارکین وطن میں بہت دلچسپی پائی جاتی ہے۔