1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان: ایک ہی خاندان کے 50 افراد کو ملازمت کیسے مل گئی؟

وزارت صحت میں ایک ہی خاندان کے تقریباﹰ پچاس افراد کو ملازمتیں کیسے مل گئیں ؟ اس فیملی کے متعدد افراد ایک ہی ہسپتال میں تعینات ہیں۔ پاکستانی حکام نے اب انکوائری کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

پاکستان میں جب بھی سرکاری ملازمتوں کا ذکر کیا جاتا ہے تو بہت سے لوگوں کے ذہن میں سب سے پہلے بدعنوانی اور اقرباء پروری جیسے الفاظ آتے ہیں۔ اب ایسا ہی ایک کیس پاکستانی صوبہ سندھ میں سامنے آیا ہے، جس نے سپریم کورٹ کی بھی توجہ حاصل کر لی ہے۔ سپریم کورٹ اس کیس کی سماعت بدھ کے روز سے کر رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی گارڈز سے لے کر لیب ٹیکنیشنز تک کی ملازمتیں ایک ہی خاندان کے لوگوں کو فراہم کی گئی ہیں۔

یہ معاملہ اس وقت منظرعام پر آیا، جب ایک شخص نے یہ شکایت جمع کروائی کہ صوبہ سندھ کی صوبائی وزارت صحت نے گھوٹکی ڈسٹرکٹ میں 48 کزنوں کو ملازمتیں فراہم کر دی ہیں۔ اس نشاندہی کے بعد صوبائی حکومت نے بھی اس معاملے میں انکوائری کروانے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

وزارت صحت کے ایک ملازم فرمان علی کا اس حوالے سے نیوز ایجنسی اے اہف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ سن دو ہزار آٹھ سے لے کر اب تک حکام کی جانب سے چدھر خاندان کے چار درجن سے زائد افراد کو ملازمتیں فراہم کی گئی ہیں۔‘‘ اس اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ یہ سب آپس میں کزن ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پہلے ان افراد کو چھوٹے درجے کی نوکریاں دی گئی تھیں لیکن بعد میں جلد ہی ان کی ترقیاں کر دی گئی تھیں۔

صوبائی وزیر صحت سکندر علی نے کہا ہے کہ وہ ابھی تک اس معاملے سے لاعلم تھے لیکن اب وہ اس معاملے کو خود دیکھیں گے۔

عالمی کرپشن کے حوالے سے بین الاقوامی ادارہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل ایک فہرست جاری کرتا ہے۔ اس فہرست میں دنیا کے 168 ممالک میں سے پاکستان کا نمبر 117واں ہے۔ جو ملک جتنا زیادہ کرپٹ ہوتا ہے، اس کا نمبر اتنا بعد میں آتا ہے۔