1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان: ایک فیصد سے بھی کم آبادی ٹیکس دیتی ہے

180 ملین کی آبادی والے پاکستان میں انکم ٹیکس کے لیے رجسٹرڈ شہریوں کی تعداد 3.2 ملین ہے تاہم فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ترجمان اسرار رؤف کے مطابق 2010ء میں محض 1.9 ملین شہریوں نے اپنی آمدنی پر ٹیکس جمع کروایا۔

زرعی آمدنی ٹیکس سے مستثنیٰ کیوں؟

زرعی آمدنی ٹیکس سے مستثنیٰ کیوں؟

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اسلام آباد سے اپنے ایک جائزے میں لکھا ہے کہ پاکستان میں ٹیکس ایک ممنوعہ موضوع ہے۔ مغربی ممالک کے دباؤ کے باوجود پاکستان اپنے ٹیکسوں کے نظام کو بہتر اور فعال نہیں بنا رہا اور یوں سرکاری خزانے میں اپنا حصہ ڈالنے والے شہریوں کی تعداد مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔

جائزے کے مطابق بد عنوان پاکستانی بیوروکریسی اپنے مفادات اور اپنی نجی دولت کا ڈَٹ کر تحفظ کرتی ہے جبکہ وسائل مختص کرنے کے معاملے میں توانائی، صحت اور تعلیم کے شعبوں کو بری طرح سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ مجموعی قومی پیداوار میں ٹیکسوں سے حاصل ہونے والے وسائل کا تناسب 10 فیصد سے بھی کم ہے۔

اے ایف پی کے ایک جائزے کے مطابق پاکستان میں امراء کا طبقہ ایسی شاہانہ زندگی گزار رہا ہے، جس کی مثال مغربی دینا میں بھی کم کم ملتی ہے

اے ایف پی کے ایک جائزے کے مطابق پاکستان میں امراء کا طبقہ ایسی شاہانہ زندگی گزار رہا ہے، جس کی مثال مغربی دینا میں بھی کم کم ملتی ہے

رواں مہینے ایشیائی ترقیاتی بینک نے بتایا کہ ٹیکسوں کی کم شرح کے باعث ہی 2010ء میں پاکستان کا بجٹ خسارہ 5.3 فیصد سے بڑھ کر 6.3 فیصد تک پہنچ گیا۔ اِن حالات میں رواں سال کے لیے اقتصادی ترقی میں اضافے کی شرح محض 2.5 فیصد اور آئندہ برس کے لیے محض 3.2 فیصد بتائی گئی ہے۔

پاکستان میں گزشتہ برس کے ہولناک سیلاب کے بعد نقصانات کا تخمینہ دَس ارب ڈالر لگایا گیا تھا، جس کے بعد واشنگٹن حکومت نے حکومت پاکستان کو سینکڑوں ملین ڈالر فراہم کیے اور مطالبہ کیا کہ پاکستان کے دولت مند طبقے سے بھی خزانے میں حصہ ڈالنے کے لیے کہا جائے۔ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے بھی اپنے دورہ پاکستان کے موقع پر کہا تھا:’’آپ کے بہت سے دولت مند شہری ٹیکس نہیں دے رہے اور یہ نا انصافی ہے۔‘‘

پاکستان کی ایک چوتھائی آبادی خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے

پاکستان کی ایک چوتھائی آبادی خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے

حال ہی میں پاکستانی وزیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ نے واشنگٹن کا دورہ کیا تھا تاہم مذاکرات کے کئی اَدوار کے باوجود بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے ساتھ کسی نئے قرضے پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا تھا۔ اب آٹھ مئی کو آئی ایم ایف کی ایک جائزہ ٹیم پاکستان کے دورے پر آ رہی ہے۔ اس موقع پر پاکستان کے ٹیکس نظام میں اصلاحات کے لیے کی جانے والی کوششوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق مراعات یافتہ طبقوں کو ٹیکسوں کی مَد میں دی جانے والی چھوٹ ختم کرنا ہو گی اور زرعی پیداوار پر ٹیکس لگانا ہو گا، جس کی اب تک جاگیرداروں کی جانب سے شدید مزاحمت ہو رہی ہے۔ اب تک بنیادی طور پر ٹیکسوں میں اصلاحات کی کوششیں اِنہی سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے باعث ناکام ہوتی رہی ہیں، جو منتخب ہو کر اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔

جہاں پاکستان کی ایک چوتھائی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے، وہاں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے بعض ارکان کی دولت کروڑوں بلکہ اربوں میں بتائی جاتی ہے۔

رپورٹ: امجد علی / خبر رساں ادارے

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس