1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان: این آر او کو کالعدم قرار دیننے کے خلاف حکومتی اپیل کی سماعت

پاکستان میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 17 ججوں پر مشتمل فل کورٹ نے آج این آر او نظرثانی کیس کی سماعت کی ہے۔

default

سماعت میں سپریم کورٹ نے قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او) کو کالعد م قرار دیےجانے کے عدالتی فیصلے کے خلاف حکومت کی نظرثانی سے متعلق اپیل کی پیروی کے لیے اٹارنی جنرل کو ایک دن کی مہلت دی ہے۔

سپریم کورٹ میں اس مقدمے کے آغاز پر حکومت نے این آر او نظرثانی کیس میں سابق حکومتی وکیل کمال اظفر کی جگہ خالد رانجھا کو اپنا وکیل مقرر کرنے کی درخواست کی تھی۔ سپریم کورٹ نے اس حکومتی درخواست کو مسترد کرتےہوئےقرار دیا تھا کہ قوانین کے مطابق وہی وکیل اس مقدمے کی پیروی کرے گا، جس نے اصل مقدمے میں حکومتی نمائندگی کی تھی۔ بعد ازاں کمال اظفرکوشش کے باوجود پیروی کی اجازت نہ ملنے پر اس مقدمے سے الگ ہو گئے تھے۔ اس پر عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے کے آغا اور ایڈووکیٹ آن ریکارڈ راجہ عبدالغفور کو اس مقدمے کی پیروی کے لیے کہا لیکن حکومت نے ان دونوں کو بھی پیروی کی اجازت نہ دی ۔

Pakistan Präsident Pervez Musharraf

سابق صدر پرویز مشرف نے قومی مفاہمتی آرڈینینس جاری کیا تھا

پیر کے روز مقدمے کی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ حکومت اس مقدمے کی پیروی میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی۔ حکومت کو اپنے ہی اٹارنی جنرل، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ آن ریکارڈ پر اعتماد نہیں تو پھر کس پر یقین ہے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ حکومت اس مقدمے میں اپنی مرضی کا وکیل کرنا چاہتی ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے انہیں مقدمے کی پیروی کے لیے ایک روز کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت سے اس بارے میں ہدایات لیں۔

ادھر سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ وکیل کا انتخاب کسی بھی فریق کا حق ہے، جو اسے ملنا چاہیے. ان کا کہنا تھا،"یہ نہیں ہو سکتا کہ کہا جائے کہ ایک ہی وکیل آ کر وکالت کرے گا، حکومت کوئی بھی وکیل پیش کر سکتی ہے۔ ایسا تو نہیں کہ وہی وکیل ہو، جسے حکومت نہیں چاہتی ہو یا اس میں کوئی خامی ہو۔ دوسرا وکیل کیوں نہیں کر سکتے۔ کورٹ کا کام ہے کہ ہم جس وکیل کو بھیجیں، اسے سنا جائے۔"

Pakistan Islamabad Gebäude vom Vefassungsgericht

این آر او سے فائدہ اٹھانے والوں کے خلاف مقدمہ دوبارہ کھولنے کی حکومت مخالف ہے

دوسری جانب سینئر وکیل حامد خان نے حکومتی رویے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عدالت کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے، جو کسی طور پر بھی مناسب نہیں۔ ان کا کہنا تھا،"حکومت کو خود اپنے کیس کی کمزوری کا علم ہے، اس لیے یہ طرح طرح کے حیلے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں۔ کبھی وکیل بدلتے ہیں، کبھی ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کو بدلتے ہیں۔ کبھی کوئی اور طریقہ اختیار کرتے ہیں، جو بہت افسوسناک بات ہے۔ سپریم کورٹ کا وقت ضائع کیا جا رہا ہے، قوم کا وقت ضائع کیا جا رہا ہے اور کیس کو دیدہ دانستہ طور پر نہیں چلایا جا رہا۔"

خیال رہے کہ مفاہمتی عمل سابق فوجی صدر ریٹائرڈ جنرل مشرف کی جانب سے پیپلز پارٹی کے ساتھ ڈیل کے نتیجے میں شروع ہوا تھا، جس کے بعد صدر آصف علی زرداری کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں کے اہم رہنماؤں سمیت ہزاروں افراد کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات ختم کر دیے گئے تھے۔ اس مفاہمتی آرڈیننس کو پیپلز پارٹی کے سابق رہنما ڈاکٹر مبشر حسن سمیت 4 دوسرے فریقوں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جس کے بعد 16دسمبر2009ء کو عدالت عظمیٰ نے این آر او کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھانے والے تمام افراد کے خلاف دوبارہ مقدمات کھولنے کا حکم دیا تھا۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: عنبرین فاطمہ

DW.COM