1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان اور EU:ٹیکسٹائل تجارت میں اضافہ ممکن نہیں

یورپی ملک بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں دوسری پاکستان یورپی یونین سمٹ میں پانچ سالہ شراکتی پلان پر ضرور اتفاق ہوا لیکن دوطرفہ تجارتی روابط میں کوئی بڑی کامیابی پاکستان کو نہیں مل سکی۔

default

پاکستانی وزیر اعظم اور یورپی یونین کے صدر پریس کانفرنس میں

جمعہ کو برسلز میں یورپی یونین کی جانب سے پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پر واضح کیا گیا کہ یورپی منڈیوں تک پاکستانی مال کی مزید اور فوری سپلائی کا فیصلہ اگلے دنوں میں یا بہت جلد ممکن نہیں ہے۔ اس ضمن میں پاکستان کو ایک سے تین سال تک کا انتظار کرنا ہو گا۔

یورپی کمیشن کے سربراہ یوزے مانویل باروسو نے پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کے بعد بتایا کہ عالمی تجارتی ادارے کے اصول و ضوابط یورپی یونین کی راہ میں حائل ہیں اور اس باعث کوئی رعایت فوری طور پر پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کو دینا ممکن نہیں ہے۔

باروسو کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر فریقین مسلسل اس معاملے پر مشاورت جاری رکھیں تو کم سے کم مدت ایک سے تین سال بنتی ہے جس میں پاکستانی مال کی مزید کھپت کا کوئی فیصلہ کیا جا سکے گا۔ باروسو کے مطابق اس مناسبت سے ایک معاہدے کا موجود ہونا ضروری ہے۔ پاکستان یورپ کو برآمد کی جانی والی کچھ مصنوعات پر خصوصی رعایت کا طلبگار ہے۔ بعض پاکستانی سامان یورپی ملکوں میں ڈیوٹی فری یا کم قیمت پر لایا جا رہا ہے لیکن پاکستان اپنے پارچہ جات اور کپڑے کی مصنوعات پر خصوصی رعایت کی خواہش رکھتا ہے۔ پاکستان کو

No-Flash EU Pakistan Gipfel

دوسری پاکستان اور یورپی یونین سربراہ اجلاس کے لیڈران پریس کانفرنس کے دوران

ٹیکسٹائل مصنوعات کے لئے بارہ فیصد راہداری دینا پڑتی ہے۔ پاکستان صنعت کاروں کا خیال ہے کہ اگراس میں کمی واقع ہو جائے تو پاکستانی کپڑے کی مصنوعات کی یورپی یونین کے ملکوں میں کھپت دوچند ہوسکتی ہے جو پاکستان کی کمزور اقتصادیات کے لئے استحکام کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ لیکن یورپ کے اندر کئی ملک اس راہداری ٹیکس میں کمی کے مخالف ہیں جن میں اٹلی بھی شامل ہے جس کی اپنی ٹیکسٹائل صنعت اہم حیثیت کی حامل ہے۔ پاکستان کو اگر اس سلسلے میں رعایت دی جاتی ہے تو یہ اطالوی مصنوعات کی کھپت میں کمی کا سبب بن سکتی ہے۔

سربراہی اجلاس میں یونین کے صدر ہرمین فان رومپوئے نے پاکستان میں انسانی حقوق کے معاملات پر خدشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس پریس کانفرنس میں خواتین کے حقوق اور اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کیا۔ جواباً پاکستانی وزیر اعظم نے یورپی یونین کے صدر کو پریس کانفرنس میں بتایا کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جو انسانی حقوق کا حامی ہے اور اقلیتوں کے حقوق کی بھی پاسداری کی جا رہی ہے۔ گیلانی نے بتایا کہ اقلیتوں کے حقوق کے لئے ایک وزارت کا قیام بھی عمل میں لایا جا چکا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ حالیہ احمدیہ مساجد پر دہشت گردی کے واقعات گیلانی کے بیان کی وکالت نہیں کرتے۔

پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، مزید تجارتی راستوں کو کھولنے کی تجویز لے کر اس سربراہی اجلاس میں شریک ہوئے تھے۔ پاکستان اس وقت یورپی یونین کا ایک بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ بیس فیصد سے زائد پاکستانی مال کی برآمدات یورپی یونین کو فی الحال کی جاتی ہے۔

پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم سات ارب ڈالر کے قریب ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM