1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان اور ہیٹی کے لیے جرمنی کے کیتھولک مسیحیوں کی امداد

جرمنی کا کیتھولک کلیسا پاکستان کے سیلاب اور ہیٹی کے زلزلہ زدگان کے لیے ایک کروڑ نوّے لاکھ یورو فراہم کر چکا ہے۔ یہ اعداد و شمار جرمن کیتھولک بشپس کانفرنس نے جاری کیے ہیں۔

default

جرمنی کی کیتھولک بشپس کانفرنس کا کہنا ہے کہ یہ رقوم خصوصی ہدیہ جات کے تحت جمع کی گئیں جبکہ کیتھولک امدادی اداروں کے ذریعے فراہم کی گئی رقوم اس کے علاوہ تھیں، جن کا حجم چھ کروڑ تہتر لاکھ یورو بتایا گیا ہے۔

Haiti / Erdbeben / Port-au-Prince G1

ہیٹی کے زلزلے کو خطے میں دوسو برس کی بدترین آفت قرار دیا گیا

اس کانفرنس نے ہیٹی اور پاکستان میں حالیہ قدرتی آفات کے نتیجے میں متاثرہ افراد کے لیے جاری کی گئی امداد سے متعلق اعداد و شمار جمعرات کو سابق جرمن دارالحکومت بون میں جاری کیے۔

بتایا گیا کہ ہیٹی میں گزشتہ برس کے زلزلے کے نیتجے میں آنے والی تباہی کے بعد متاثرین کے لیے کیتھولک چرچ نے خصوصی ہدیہ جات کے تحت ایک کروڑ یورو فراہم کیے، جبکہ اس آفت زدہ ملک کے لیے جرمنی کے کیتھولک امدادی اداروں نے تین کروڑ بیاسی لاکھ یورو اضافی فراہم کیے۔

پاکستان کے لیے خصوصی ہدیہ جات کے تحت 88 لاکھ یورو فراہم کیے گئے جبکہ مشنری امدادی اداروں کی جانب سے فراہم کی گئی دوکروڑ اکانوے لاکھ یورو کی رقوم اس کے علاوہ تھیں۔

گزشتہ برس ہیٹی میں زلزلے اور پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے فوری بعد کیتھولک بشپس کانفرنس نے جرمنی بھر میں خصوصی عطیات کی اپیل کی تھی۔ ان دونوں ممالک میں تباہی کے اثرات تاحال پائے جاتے ہیں اور امدادی ادارے بالخصوص خوراک کی فراہمی کے منصوبوں پر بدستور کام کر رہے ہیں۔

پاکستان میں سیلاب سے انگلینڈ کے رقبے کے برابر اس کا خطہ زیر آب آ گیا تھا جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد آسٹریلیا کی مجموعی آبادی کے برابر تھی۔ اسے

Pakistan Flut Katastrophe 2010 Flash-Galerie

پاکستان میں سیلاب کے باعث انگلینڈ کے رقبے کے برابر خطہ زیرآب آیا

پاکستان کی تاریخ کی بدترین قدرتی آفت قرار دیا گیا تھا۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ جرمن حکومت نے پاکستان کی مدد کے لیے وہاں کی مصنوعات کی یورپی مارکیٹوں تک رسائی کا مدعا بھی اٹھایا تھا۔

ہیٹی میں گزشتہ برس کے آغاز پر آنے والے زلزلے نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلائی تھی اور اسے خطے میں گزشتہ دو سو برس میں آنے والا خطرناک ترین زلزلہ قرار دیا گیا تھا۔ انٹر امریکن ڈویلپمنٹ بینک کے ایک جائزے کے مطابق اس آفت کے نتیجے میں سات سے تیرہ ارب ڈالر کا نقصان ہوا جبکہ ہلاکتوں کی تعداد دو سے ڈھائی لاکھ کے درمیان رہی۔

رپورٹ: ندیم گِل/ خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس