1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان چوتھا ایک روز میچ

آج پیر کے روز بارباڈوس کے دارالحکومت برج ٹاؤن میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز کا چوتھا میچ کھیلا جا رہا ہے۔ پاکستان ایک روزہ میچوں کی سیریز جیت چکا ہے۔

default

برج ٹاؤن میں ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ نے چوتھے ایک روزہ میچ کے لیے تجربہ کار رام نریش سروان کو ٹیم میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سروان ایک تجربہ کار بیٹسمین ہیں اور وہ 166 ایک روزہ میچ کھیل چکے ہیں۔ وہ ویسٹ انڈین ٹیم کی کپتانی کا بوجھ بھی ماضی میں اٹھانے کی کوشش کر چکے ہیں۔

رواں سال جنوبی ایشیاء میں کھیلے جانے والے ورلڈ کپ کے دوران سروان بہت عمدہ پرفارمنس دینے سے قاصر رہے تھے۔ اس کے علاوہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران جتنے بھی ایک روزہ میچ انہوں نے کھیلے ہیں ان میں وہ صرف ایک بار سینچری بنانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ نے مڈل آرڈر بیٹسمین ڈیرن براوو کو ٹیم سے فارغ کردیا ہے۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم کے حوالے سے کئی معاملات پر تنقیدی عمل جاری ہے۔ بعض ناقدین کا خیال ہے کہ بورڈ نے سینئر کھلاڑیوں کو نظر انداز کر کے زیادتی کی ہے۔ اس کے علاوہ ڈیرل سیمی کی جگہ سابق ٹیسٹ اوپننگ کھلاڑی ڈیرن گنگا کو کپتانی کے لیے منتخب کیا جانا چاہیے تھا۔ وہ

Cricket West-Indien

رام نریش سروان تجربہ کار مڈل آرڈر بیٹسمین ہیں

ڈومیسٹک کرکٹ میں بہتر کپتانی کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ بتیس سالہ گنگا 48 ٹیسٹ اور 35 ایک روزہ میچ کھیل چکے ہیں۔ وہ ویسٹ انڈین کرکٹ ٹیم کے نائب کپتان بھی رہ چکے ہیں۔ مبصرین کے مطابق گنگا کم از کم بیٹ کے ساتھ موجودہ کپتان ڈیرل سیمی سے بہتر پرفارمنس دے سکتے ہیں۔ گنگا ایک روزہ میچوں میں نو نصف سینچریاں بنا چکے ہیں۔ انہیں آخری بار پاکستان کے خلاف دسمبر سن 2006 میں ایک روزہ میچ کے لیے منتخب کیا گیا۔

دوسری جانب پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی اس کا عندیہ دے چکے ہیں کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف بقیہ دو ایک روزہ میچوں میں نئے اور کم تجربہ کار کھلاڑیوں کو آزمایا جا سکتا ہے۔ اب تک کھیلے گئے تین ایک روزہ میچوں میں آفریدی کے علاوہ محمد حفیظ اور سعید اجمل کی اسپن گیند بازی کے سامنے ویسٹ انڈین بیٹسمین مکمل طور پر بے بس دکھائی دیے۔ اب تک توفیق عمر، تنویر احمد، عثمان صلاح الدین، صدف حسین اور عبدالرحمٰن اپنی سلیکشن کے منتظر ہیں۔ اس بات کا امکان ہے کہ عمر اکمل اور اوپننگ میں سے کسی ایک بیٹسمین کو آرام دیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح سعید اجمل کی جگہ عبدالرحمٰن کو ٹیم میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

آج کھیلے جانے والے میچ کے امپائر اشوکا ڈی سلوا اور پیٹر نیرو ہیں۔ نیرو کا تعلق ویسٹ انڈیز اور سلوا، سری لنکا کے سابق ٹیسٹ کھلاڑی رہ چکے ہیں۔ اس سیریز کے میچ ریفری نیوزی لینڈ کے جیف کرو ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس