1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز برابر

پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں کامیابی حاصل کر کے سیریز برابر کر دی۔ سینٹ کٹس میں کھیلے گئے اس ٹیسٹ میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو 196 رنز سے شکست دی۔

default

دوسرے ٹیسٹ میچ کی خاص بات پاکستانی اسپنرز تھے، جنہوں نے میچ کی دونوں اننگز میں اپنا جادو جگایا اور مخالف کھلاڑیوں پر حاوی رہے۔ پاکستانی اسپنر عبدالرحمن نے اس ٹیسٹ میچ میں اپنے کیریئر کی بہترین بولنگ کی۔ انہوں نے 65 رنز دے کر چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ ویسٹ انڈیز کی آخری پانچ وکٹیں عبدالرحمن اور سعید اجمل نے ہی لیں۔ سعید اجمل نے 79 رنز کے عوض تین کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ اس طرح ویسٹ انڈیز کی ٹیم 427 رنز کے تعاقب میں 230 رنز بنا سکی۔

پانچویں اور آخری دن کا کھیل لنچ سے 15 منٹ پہلے ہی ختم ہو گیا۔ سیریز برابر ہونے پرکپتان مصباالحق کا کہنا تھا، ’’ لڑکوں کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ان میں مقابلہ کرنے کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔‘‘ کپتان کے بقول اسی جذبے کی وجہ سے پاکستانی ٹیم سیریز کو برابر کر پائی ہے۔ انہوں نے مزید کہا پاکستان میں حالات خراب ہونے کی وجہ سے ٹیم کو مسلسل ملک سے باہر کھیلنا پڑ رہا ہے۔ اس کے کئی منفی پہلو بھی ہیں لیکن مثبت بات یہ ہے کہ لڑکے غیر ملکی میدانوں پر کھیل کا تجربہ حاصل کر رہے ہیں کہ کس طرح مختلف ماحول میں کرکٹ کھیلی جاتی ہے۔ اس کا ایک سب سے بڑا فائدہ یہ ہو رہا ہے کہ ٹیم متحد ہوتی جا رہی ہے اور لڑکے ذہنی طور پر مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔‘‘

Flash-Galerie Cricket Spieler Pakistan Misbah-ul-Haq

مصباح الحق

ویسٹ انڈیز کے کپتان ڈیرن سیمی نے کہا کہ پہلی اننگز میں ٹیم کی پرفارمنس بہت اچھی تھی لیکن پاکستان کی آخری وکٹ کے 78رنز کی پارٹنر شپ کی وجہ سے میچ ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔ سیمی کے بقول ’’اس کے علاوہ ہم زیادہ رنز بھی اسکور نہیں کر سکے۔‘‘ویسٹ انڈیز کی طرف سے ڈیرن براوو نے نصف سنچری اسکور کی، سیمی نے 41 اور ناش 30 رنز کے ساتھ نمایاں کھلاڑی تھے۔ ان کے علاوہ ویسٹ انڈیز کا کوئی بھی بلے باز پاکستانی اسپنرز کا مقابلہ نہ کر سکا۔

سعید اجمل نے اس سیریز میں کل 17 وکٹیں حاصل کیں اور مین آف دی سیریز قرار پائے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس