1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان اور مستحکم افغانستان

پاکستان آزادی کے سال سن 1947 سے ہی اپنی مغربی سرحدوں پر استحکام کے لیے کوشاں ہے، جس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ سرحد کے دونوں جانب پشتون اور دوسرے قبائل آباد ہیں، ان میں پشتون، بلوچ، ہزارہ اور دوسرے نسلی گروپ شامل ہیں۔

default

دونوں ملکوں کی سرحدوں پر رہنے والے نیم خود مختار قبائل مسلسل اپنی اپنی حکومتوں کی عمل داری کو چیلنج کرتے آ رہے ہیں۔ اس تناظر میں دونوں ملکوں کی سرحدوں کے آرپار رہنے والے قبائل متحرک اور سرگرم رہتے ہیں۔ پاک افغان امور کے ماہر اور لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز (LUMS) کے پروفیسر ڈاکٹر رسرل بخش ریس کا کہنا ہے کہ یہ دنیا بھر میں بہت کم دیکھا گیا ہے کہ کسی بھی سرحد کے دونوں طرف سے چالیس سے ساٹھ ہزار کے قریب لوگ روزانہ کی بنیاد پرسرحد عبور کرکے مختلف معاملات میں حصہ لیتے ہیں۔

دوسری جانب یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی عوام کے درمیان ہزاروں سال سے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے موجود ہیں۔ ان کے درمیان سرحد کی لکیر نوآبادیاتی آقاؤں نے انیسویں صدی میں کھینچی تھی۔ ڈاکٹر رسول بخش ریس کو یقین ہے کہ ایک مستحکم افغانستان یقینی طور پر پاکستان کے مفاد میں ہے۔ اس وقت سرکاری سطح پر کابل اور اسلام آباد میں بین الاقوامی فوجوں کے انخلاء کے بعد کی صورت حال کے حوالے سے شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔

اسلام آباد حکومت مستقبل کے افغانستان کے حوالے سے ایک معاملے پر خاصی تشویش رکھتی ہے اور وہ ہے کہ اگر بین الاقوامی فوجوں کے انخلاء کے بعد طالبان برسراقتدار آ جاتے ہیں تو پاکستان اچھے تعلقات بحال کرنے کے لیے ان کے ساتھ مذاکرات پر مجبور ہو جائے گا۔ اس احساس سے کئی پاکستانی اپنے ذہنوں میں اٹھنے والی اُس خوف کی لہر سے گبھرا جاتے ہیں کہ یہ صورت حال پاکستان میں مسلم انتہاپسندی کے فروغ میں اہم کردار کر سکتی ہے۔

Dorfbewohner im Nordwesten Afghanistans NO FLASH

سرحدی علاقے کے لوگ آپس میں رابطوں میں رہتے ہیں

سوویت یونین کے زوال کے بعد اسلام آباد کے نزدیک افغانستان اس طرح کا جارح ملک نہیں ہو سکتا جیسے کہ بھارت ہے۔ یہ خیال برسوں سے کیا جاتا ہے کہ افغانستان ایک دوست ملک کے طور پر بھارت کے ساتھ کسی بھی سنگین صورت حال میں بہر حال فائدہ مند ہے لیکن اب یہ تصور متروک ہوتا جا رہا ہے۔

بھارت کا افغانستان کی تعمیر نو میں فعال کردار خاصا اہم ہے۔ اس مناسبت سے پاکستان کی مشرقی اور مغربی ہمسایہ ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والا اتحاد یقینی طور پر پاکستان کی سالمیت کے لیے باعث خطرہ ہو سکتا ہے۔ پاکستانی محسوس کرتے ہیں کہ افغانستان کے لیے بھارتی امداد میں دہلی حکومت کے عزائم بھی پوشیدہ ہیں۔

ڈاکٹر رسول بخش ریس کے مطابق موجودہ صورت حال میں اسلام آباد حکومت افغانستان کی مجموعی صورت حال کے لیے سفارتی کوششوں میں ایک پارٹنر کے طور اپنی ذمہ داریوں کا احساس رکھتی ہے اور یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔

افغانستان کے لیے اقتصادی اعتبار سے پاکستان کی حیثیت اہم ہے۔ اس لحاظ سے کابل حکومت یقینی طور پر احساس رکھتی ہے۔ گزشتہ سال سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی روابط میں اضافہ بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اقتصادی روابط امکانی طور پر مستقبل میں پاکستان اور افغانستان میں اعتماد سازی میں اہم ہوں گے۔

کشور مصطفیٰ ⁄ عابد حسین

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس