پاکستان اور روس کے درمیان گیس پائپ لائن معاہدہ طے | حالات حاضرہ | DW | 16.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان اور روس کے درمیان گیس پائپ لائن معاہدہ طے

پاکستان اور روس کے درمیان گیارہ سو کلو میٹر طویل گیس پائپ لائن بچھانے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس گیس پائپ لائن کے ذریعے پاکستان کے دو بڑے ترین شہروں کے درمیان یہ پائپ لائن بچھائی جائے گی۔

دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کے تحت پاکستان کے شہروں کراچی اور لاہور کے درمیان گیارہ سو کلو میٹر طویل گیس پائپ بچھانے کے لئے روس دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔

اس معاہدے پر جمعے کو اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب میں روس کے وزیر توانائی الیگزینڈر نوواک اور پاکستان کے وفاقی وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے دستخط کیے۔ تقریب میں پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے بھی شرکت کی۔

روس کے وزیر توانائی الیگز ینڈر نواوک کی سربراہی میں ایک روسی وفد نے جمعرات کو کراچی اور لاہور کے درمیان پائپ لائن بچھانے کے لیے قدرتی وسائل کے وزیر شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی تھی۔

سالانہ بارہ اعشاریہ چار ارب کیوبک میٹر گیس ترسیل کرنے کی گنجائش رکھنے والی اس یہ مجوزہ پائپ لائن کراچی میں مائع قدرتی گیس(ایل این جی) کے ٹرمینلز کو لاہور کے ساتھ منسلک کرے گی۔

اسی منصوبے کے تحت پاکستانی وزارت پیٹرولیم کی ماتحت کمپنی انٹر اسٹیٹ گیس سسٹم اور روسی کمپنی آر ڈی گلوبل کے درمیان پروٹوکول پر بھی دستخط ہوئے۔

Pipeline in Pakistan

گیس پائپ لائن 11 سو کلومیٹر طویل ہو گی

پاکستانی وزیر برائے پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے کہا، ’روس کے تعاون سے پاکستان میں جاری توانائی بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ پاکستان کو توانائی کے بدترین بحران کا سامنا ہے ۔یہ منصوبہ ملک میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ایک سنگ میل ثا بت ہو گا۔‘

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس منصوبے پر تین سے چار ماہ میں کام شروع کر دیا جائے گا۔ سرکاری زرائع ابلاغ کے مطابق یہ پائپ لائن بیالیس ماہ کی مدت اور تین مراحل میں مکمل کی جائے گی۔

اس پائپ لائن کی تعمیر کے بعد پچیس سال تک روسی کمپنی اس کو مالکانہ حقوق کے تحت چلائے گی جس سے کمپنی منافع سمیت اپنی سرمایہ کاری واپس لے سکے گی اور پھر اس پاکستان کے حوالے کر دیا جائے گا۔

پاکستان کے ایک معروف میڈیا گروپ ڈان سے وابستہ صحافی اور توانائی کے امور کی رپورٹنگ کرنے والے سہیل بھٹی کا کہنا ہے کہ، ’پاکستان کو دوہزار اٹھارہ میں توانائی کے بحران سے نکالنے کے مسلم لیگ (ن) کے دعووں کی تکمیل کے لیے ایک کلیدی حیثیت کا منصوبہ ہے اور یہ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی بہتر کارکردگی کے لئے بہت ضروری ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پنجاب کے شہروں قصور، شیخو پورہ اور جھنگ میں نئے تعمیر کیے گئے تین ہزار چھ سو میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والے پاور پلانٹس کو اسی پائپ لائن کے ذریعے گیس فراہم ہو سکے گی۔

پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے اس سال کے آغاز پر اُوفا میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے موقع پر روسی صدر ولادی میر پوٹن سے ملاقات کے دوران شمال جنوب گیس پائپ لائن کے منصوبے پر پیش رفت کے بارے میں بات چیت کی تھی۔ پاکستانی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ پاکستان روس کے ساتھ دفاع، تجارت ، توانائی اور فن و ثقافت کے شعبوں میں کثیر الجہتی تعلقات رکھنے کا خواہاں ہے۔

رواں برس اگست کے مہینے میں پاکستان اور روس نے ایک اہم دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت روس پاکستان کو جدید ایم آئی پینتیس لڑاکا ہیلی کاپٹر فروخت کرے گا۔ اس کے علاوہ اس وقت پاکستان روس سے جدید روسی لڑاکا طیاروں سکھوئی ایس یو پنیتس کی خریداری کے لیے بات چیت بھی کر رہا ہے۔

اقتصادی امور کے مایر ڈاکٹر فرخ سلیم کا کہنا ہے کہ روس اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں گرم جوشی اس بات کی علامت ہے کہ ملکوں کے درمیان تعلقات علاقائی اور بین الاقوامی ضروریات کے تناضر میں دیکھے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’ہر معاہدے میں پاکستان اور روس کو دوطرفہ فائدہ ہے۔ روسی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کا موقع مل رہا ہے جب کہ پاکستان روسی ٹییکنالوجی اور تجربے سے استفادہ کرسکے گا۔ اس کے علاوہ بھی دونوں ملکوں کے درمیان سرد جنگ کے بعد پہلی مرتبہ تعلقات میں نمایاں بہتری آ رہی ہے جو اس خطے اور دونوں ملکوں کے لئے اچھی بات ہے۔‘

اانہوں نے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم کے آنندہ ماہ دورہ واشنگٹن سے قبل روس اور پاکستان کے درمیان گیس پائپ لائن کی تعمیر کے معاہدے پر دستخط ایک اہم اقدام ہے۔اس سے امریکا کو بھی یہ باور کرانے میں مدد ملے گی کہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات کتنی اہم ہیں اور وہ ان کو پورا کرنے کا کوئی بھی موقع نہیں گنوا سکتا ۔