1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

پاکستان اور جنوبی ایشیا میں فالج کا مرض

دنیا بھر میں فالج کا شکار افراد میں سے تقریبا41 فیصد پاکستان کے شہری ہیں، جہاں فالج کے حملے کے 30 دن کے اندرمریض کے انتقال کا خطرہ 30 فیصد زیادہے

default

انسانی دماغ

پاکستان کے شہر کراچی میں نیورولوجسٹس نے ’’فالج نئی وباء‘‘ کےعنوان سے آغاخان یونیورسٹی کے کنٹینیوئنگ میڈیکل ایجوکیشن سیمینار منعقد ہوا۔ سیمنار میں مقررین کا کہنا تھا کہ صحت کی عالمی تنظیم ’’ڈبلیوایچ او‘‘ کی تحقیق سے ظاہر ہوتاہے کہ نوجوانوں میں فالج سے متاثر ہونے کا خطرہ بوڑھے افراد کے مساوی ہوتاہے۔ عمومی تصور کے برعکس، جنوبی ایشیاء میں فالج کے باعث ہونے والی اموات میں فالج تاحیات معذوری کا باعث بنتاہے۔ این ایچ ایس پی کے مطابق پاکستان میں پانچ لاکھ سے آٹھ لاکھ افراد فالج اوردل کے امراض کا شکار ہوتے ہیں۔ ’’اےکےیوایچ‘‘ کے ڈیپارٹمنٹ آ ف میڈیسن کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مغیث شیرانی نے کہاکہ جزوی طورپراس کی وجہ نیورولوجسٹس اور موزوں طبی آلات کی عدم دستیابی ہے جو فالج کے مریضوں کے علاج کے لیے ضروری ہے۔

World Health Organization - WHO, Logo

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت کا نشان

پاکستانی ڈاکٹرز کے ایک سروے سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ کئی ڈاکٹرز، فالج کے مریضوں میں بلڈ پریشر کو درست رکھنے کے لیے خواب آور ادویات استعمال کرتے ہیں جن سے مریض کی حالت مزید خراب ہوجاتی ہے۔ ہائی بلڈپریشر کو قابوکرنے کے لیے کم نقصان دہ طبی طریقہ کار موجود ہے جس کو استعمال نہیں کیاجاتا۔

فالج کے خطرے کوبڑھانے والے عوامل میں ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، دل کے امراض، مٹاپا اورتمباکو نوشی شامل ہیں۔

Model vom Gehirn

انسانی دماغ کا ایک ماڈل

’’اےکےیوایچ‘‘ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع نے کہاکہ ’’ڈبلیوایچ او‘‘ کے اندازے کے مطابق پاکستان میں فالج کے باعث ہونے والی اموات کی شرح ایک لاکھ افراد میں 84افراد ہے جبکہ امریکہ اور برطانیہ میں یہ ایک لاکہ میں 20سے بھی کم ہے۔ جنوبی ایشیا میں فالج کے مریضوں کی تعداد دنیا بھرکا 20فیصد ہے اور جنوبی ایشیا میں فالج اوردل کے امراض دنیا کے دیگر خطوں سے زیادہ متوقع ہے۔

پاکستان میں فالج سے بچاؤ کے لیے تحقیق، تعلیم اور قومی سطح پر رہنمائی اور ہدایات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ اس بیماری کے اثرات سے نجات حاصل کرنے کے لیے قومی سطح پر بچاؤ کے پروگراموں کی ضرورت ہے۔