1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان مجوزہ چار ملکی گیس پائپ لائن معاہدے پر دستخط

پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان چار ملکی مجوزہ گیس پائپ لائن منصوبے کے لیے گیس کی ترسیل کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس منصوبے پر ترکمانستان کے صدر قربان گل محمدوف کے دورہ پاکستان کے موقع پر اسلام آباد میں دستخط کیے گئے۔

default

ترکمانستان کے صدر قربان گل محمدوف

پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان اس کے علاوہ بھی تجارت ، ثقافت، اطلاعات کے شعبوں میں تین معاہدوں اور دو مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور ترکمانستان کے صدر نے  وفود کی سطح پر بھی ملاقات کی اور مختلف شعبوں میں تعاون کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔

Infografik Gas-Pipeline TAPI

چار ملکی مجوزہ گیس منصوبے کی تکمیل کی صورت میں پاکستان اور بھارت کو 27 ارب کیوبک میٹر گیس فراہم ہو سکے گی

پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے اتوار کے روز ایک پریس کانفرنس میں یہ عندیہ دیا تھا کہ ترکمانستان کے صدر کے دورہ کے موقع پر ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور بھارت گیس پائپ لائن کے مجوزہ منصوبے پر اہم پیشرفت کا اعلان ہوگا۔ اس مجوزہ منصوبے کے تحت ترکمانستان کے دولت آباد گیس فیلڈ سے 1680 کلو میٹر طویل گیس پائپ لائن افغانستان کے ذریعے پاکستان سے ہوتی ہوئی بھارت جائے گی۔

منصوبے پر 7.6 ارب ڈالر لاگت آئے گی اور اس کی تکمیل کی صورت میں پاکستان اور بھارت کو 27 ارب کیوبک میٹر گیس فراہم ہو سکے گی۔

 پیر کے روز ترکمانستان کے صدر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ تاپی گیس پائپ لائن کا منصوبہ خطے کیلیے توانائی کی ضروریات پوری کرتے ہوئے اقتصادی استحکام کا باعث ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک کا باہم تعاون ترقی کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ پاکستان میں ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم وژن اور کل آنے والی تاریخ کا حصہ ہیں، میں ایک مرتبہ پھر کہوں گا کہ پاکستان، ترکمانستان ہمیشہ اور ہر حال میں بھائی اور دوست رہیں گے۔‘‘

Turkmenistan-Afghanistan-Indien-Pakistan (TAPI)-Pipeline

پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان پائپ لائن کے حوالے سے پہلی بار مفاہمت کی یادداشت پر دستخط 15 مارچ 1995ء کو ہوئے تھے

ترکمانستان کے صدر نے کہا کہ انہوں نے اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ ملاقات میں دو طرفہ تعلقات ، خطے اور بین الاقوامی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا، ’’ترکمانستان اور پاکستان کے بین الاقوامی سیاست ، خطے میں امن و سلامتی، دہشتگردی کے خلاف جنگ، منشیات کی اسمگلنگ اور منظم جرائم کے خاتمے کے حوالے سے نقطہ نظر میں مماثلت ہے۔‘‘

چار ملکی گیس پائپ لائن کا ذکر کرتے ہوئے ترکمانستان کے صدر نے کہا کہ گیس پائپ لائن منصوبے کے حوالے سے اب اس کنسورشیم کی تشکیل باقی رہ گئی ہے جو اس معاہدوں کی تکمیل کرے گا۔

پاکستان کو بجلی کے علاوہ گیس کی بھی قلت کا سامنا ہے اور پاکستانی وزیر پٹرولیم عاصم حسین پہلے ہی موسم سرما میں گیس کی لوڈشیڈنگ کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔

اتوار کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ خصوصی گیس لوڈ مینجمنٹ پلان کے تحت سی این جی اسٹیشن ہفتے میں تین دن بند رہیں گے جبکہ صنعتوں اور کھاد کے کارخانوں کو مخصوص اوقات کے دوران قدرتی گیس فراہم کی جائے گی۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: حماد کیانی

DW.COM