1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان اور تاجکستان کے مابین بڑھتے ہوئے تعلقات

پاکستان اور تاجکستان نے توانائی، دفاع اور تجارت کے شعبوں میں تعاون کو مزید مظبوط بنانے پر اتفاق کرتے ہوئے مشترکہ تجارتی کونسل کے قیام سمیت سات معاہدوں اور مفاہمت کی یاداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف نے جمعرات کو پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ملاقات کے بعد وفود کی سطح پر مذاکرات کیے۔ ان مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے دونوں رہنماؤں نے مذاکرات کو مفید اور تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کثیر الجہتی تعلقات کو مزید وسعت دینے میں مدد ملے گی۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ انہوں نے اپنے تعلقات کا جائزہ لیا ہے اور دونوں عوام کے باہمی مفاد کے لئے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ مشترکہ بزنس کونسل کے قیام سے باہمی تجارت کو تقویت ملے گی۔ انہوں نے کہا، ’’تاجکستان کا محل وقوع پاکستان کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ وسط ایشیائی ریاستوں کےلئے تاجکستان گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہےاور دونوں ممالک کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات ہیں۔‘‘

پاکستانی وزیر اعظم نے امید کا اظہار کیا کہ کاسا 1000 منصوبہ دو ہزار اٹھارہ تک مکمل ہوجائے گا۔ خیال رہے کہ کاسا منصوبے کے تحت تاجکستان پاکستان کو ایک ہزار میگاواٹ سستی بجلی فراہم کرے گا۔

تاجک صدر علی رحمانوف نے کہا کہ یہ ان کا پاکستان کا چھٹا دورہ ہے۔ انہوں نے اپنے دورے کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے مزید معاہدوں پر دستخط کر کے ایک مضبوط بنیاد استوار کی ہے، جس سے تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا، ’’میں نے مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس اسلام آباد میں بلانے کی تجویز دی ہے۔ تاجکستان انسداد دہشت گردی و منشیات سمیت دیگر امور پر تعاون کرے گا۔‘‘

پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق پاکستان اور تاجکستان نے ملزمان کی حوالگی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کے معاہدوں اور مشترکہ بزنس کونسل کے قیام و صنعتی شعبہ میں تعاون سے متعلق معاہدوں اور یادداشتوں پر بھی دستخط کئے۔ اس ضمن میں منعقد کی گئی تقریب میں وزیراعظم نواز شریف اور تاجک صدر امام علی رحمان بھی شریک ہوئے اور بعد میں ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔

اقتصادی تجزیہ کار ڈاکٹر فرخ سلیم کا کہنا ہے کہ پہلے بیلا روس کے وزیر اعظم اور پھر تاجکستان کے صدر کا دورہ علاقائی تعاون کے نقطہ ء نظر اور پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بھی بہت اہم ہے۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’پاکستان کی کوشش ہے کہ اسے اپنے نزدیکی ممالک، جو کہ اس کی توانائی کی ضروریات کم نرخوں پر پوری کر سکتے ہیں، سے بھر پور مدد ملے تو اس سلسلے میں تاجکستان ایک انہتائی اہم ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سستی بجلی کا منصوبہ کاسا اس کی ایک بڑی مثال ہے۔‘‘

تاجک صدر کے دورے سے ایک روز قبل بیلا روس کے وزیر اعظم آند رے کوبیکوف نے بھی پہلی مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ سرکاری ریڈیو کے مطابق پاکستان اور بیلاروس نے اقتصادی تعاون کے روڈ میپ سمیت صحت، کسٹم، زراعت، تعلیم، تجارت، معیشت، سائنس، ٹیکنیکل اور ثقافتی شعبوں میں اٹھارہ معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔