1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان اور بھارت کے درمیان پھر سرحدی جھڑپ، تین افراد ہلاک

پاکستان اور بھارت کے سرحدی محافظوں کے درمیان تازہ جھڑپ کے ایک واقعے میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر فائرنگ میں پہل کے الزامات عائد کیے گئے ہیں

متنازعہ علاقے کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر ہونے والی اس جھڑپ میں دونوں ممالک کی فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے پر مارٹر گولے بھی برسائے گئے۔ اس واقعے میں ایک بھارتی دیہاتی اور دو پاکستانیوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

پاکستانی فوج کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق پاکستانی صوبے پنجاب کے شہر سیالکوٹ کے قریب بجوات سیکٹر میں دونوں ممالک کی فورسز کے درمیان اس جھڑپ میں چھ عام شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔

فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے ’بلا اشتعال‘ فائرنگ کے بعد پاکستانی فورسز نے جوابی کارروائی کی جب کہ یہ جھڑپیں منگل کی سہ پہر بھی وقفے وقفے سے جاری رہیں۔

Pakistanische Soldaten im Grenzgebiet zwischen Pakistan und Indien

دونوں ممالک کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے

دوسری جانب بھارتی انسپکٹر جنرل دانش رانا نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے پہلے فائرنگ شروع کی گئی، جس میں ایک بھارتی دیہاتی ہلاک ہو گیا۔ بھارتی بیان کے مطابق پاکستانی فوج کی طرف سے جموں کے خطے میں بھارتی سرحدی چوکیوں پر درجنوں فائر کیے گئے۔

بھارتی سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ پاکستانی فائرنگ کی زد میں آ کر چار عام شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔ بھارت کا کہنا ہے کہ پاکستانی فورسز کی فائرنگ کے بعد بھارتی سرحدی محافظوں کی طرف سے جوابی کارروائی عمل میں آئی۔

خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی جھڑپوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے جب کہ اس کا الزام دونوں ممالک ایک دوسرے پر عائد کرتے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان سن 2003ء میں فائربندی کا ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس کے بعد ان سرحدی جھڑپوں میں کمی آئی تھی، تاہم حالیہ کچھ عرصے میں ایک مرتبہ پھر ان میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

بھارت کا الزام ہے کہ پاکستانی ایسی کارروائیوں کے ذریعے عسکریت پسندوں کو بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں داخل کر دیتا ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ سن 1989 سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح بغاوت کے بعد عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کریک ڈاؤن شروع کیا گیا تھا، جس میں اب تک 68 ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔