1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کا اہم دور آج سے شروع

بھارت اور پاکستان کے درمیان امن عمل آگے بڑھانے کے لیے آج جمعرات کو بات چیت کا ایک اہم دور ہو رہا ہے۔ خارجہ سیکرٹریوں کی سطح کی یہ بات چیت آج اسلام آباد میں ہو رہی ہے۔

سلمان بشیر اور نرپما راؤ

سلمان بشیر اور نرپما راؤ

آج جمعرات کو بھارت کی خارجہ سیکرٹری نروپما راؤ اسلام آباد پہنچ رہی ہیں جہاں وہ پاکستان کے سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر کے ساتھ ملاقات کریں گی۔ دونوں ممالک کی طرف سے اس ملاقات سے زیادہ امیدیں وابستہ نہیں کی گئی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان امن عمل آگے بڑھانے کے پیچھے امریکی خواہش کار فرما ہے۔ امریکی صدر کی طرف سے اگلے برس کے وسط تک اپنی 33 ہزار فوج کو افغانستان سے نکالنے کا اعلان سامنے آچکا ہے۔ امریکہ کے خیال میں بھارت اور پاکستان کے مستحکم تعلقات جنوبی ایشیا کے امن اور افغانستان کی استحکام کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

پاکستانی وزیر اعظم کا کرکٹ ورلڈ کا میچ دیکھنے کے لئے بھارت جانا امن عمل کی بحالی کے لیے مثبت قدم قرار دیا جاتا ہے

پاکستانی وزیر اعظم کا کرکٹ ورلڈ کا میچ دیکھنے کے لئے بھارت جانا امن عمل کی بحالی کے لیے مثبت قدم قرار دیا جاتا ہے

پاکستان اور بھارت کے درمیان نومبر 2008ء کو ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد سے امن عمل معطل تھا، تاہم رواں برس فروری سے اس عمل کی بحالی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ تب سے اب تک دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان کئی سطحوں پر اور کئی امور پر بات چیت ہو چکی ہے۔ ان میں دفاع ، داخلہ اور تجارتی سیکرٹریوں کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کا کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران میچ دیکھنے کے لئے بھارت جانا بھی اسی سلسلے میں ایک مثبت قدم قرار دیا جاتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکرٹریوں کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی اس ملاقات میں کشمیر کے مسئلے پر بھی بات چیت متوقع ہے۔ اسی ہفتے بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت سے اعتماد بڑھے گا۔


رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس