1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان اور بھارت کے درمیان امن مذاکرات شروع نہ ہو سکے

پاکستان اور بھارت کے قومی سلامتی مشیروں کے درمیان طے شدہ مذاکرات اپنے آغاز سے چند گھنٹے پہلے ہی منسوخ ہو گئے۔ مذاکرات کی اس منسوخی سے دونوں ممالک کی امن کے خواہش پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

برصغیر کی تقسیم اور دونوں ممالک کے قیام سے اب تک ان دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان تعلقات باہمی بداعتمادی اور الزام تراشیوں کی نذر ہوتے رہے۔

گزشتہ برس مئی میں بھارتی وزارت عظمیٰ کا قلم دان سنبھالنے والے نریندر مودی کے دور اقتدار میں یہ دوسرا موقع ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات شروع ہونے سے قبل ہی منسوخ ہو گئے۔ دونوں ممالک کے قومی سلامتی مشیروں کے درمیان دو روزہ مذاکرات کا آغاز آج اتوار کے روز ہونا تھا، تاہم میڈیا پر الفاظ کی جنگ نے ان مذاکرات کو آغاز سے پہلے ہی ناکام بنا دیا۔

گزشتہ ماہ پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات میں قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان ملاقات پر اتفاق کیا گیا تھا، تاہم اب مبصرین ان خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ مذاکرات کی منسوخی کی وجہ سے سرحد پر کشیدگی جو پہلے ہی زیادہ ہے، اب اور بڑھ سکتی ہے۔

Indien Sushma Swaraj

سشما سوراج نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ بات چیت صرف اور صرف دہشت گردی کے موضوع پر ہو گی

دونوں ممالک سن 1947 میں اپنے قیام سے اب تک تین جنگیں لڑ چکے ہیں، جن کی بنیادی وجہ متنازعہ علاقہ کشمیر ہے۔ دونوں ممالک کشمیر کو اپنا حصہ بتاتے ہیں۔

نئی دہلی حکومت برسوں سے یہ الزام عائد کر رہی ہے کہ پاکستان اس کے زیرانتظام کشمیر کے علاقے میں متحرک عسکریت پسندوں کی مدد کر رہا ہے، جب کہ پاکستان ان الزامات کو رد کرتے ہوئے بھارت پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ پاکستان میں بدامنی کو ہوا دیتا ہے۔

منسوخ ہونے والے ان مذاکرات میں بھارت کی خواہش تھی کہ وہ قومی سلامتی کے پاکستانی مشیر سرتاج عزیر کے ساتھ صرف اور صرف دہشت گردی کے موضوع پر بات کرے۔ بھارت نے اس ملاقات سے قبل قومی سلامتی کے پاکستانی مشیر کی کشمیری علیحدگی پسند رہنماؤں سے ملاقات پر اعتراض کیا تھا۔ پاکستان اس ملاقات میں ایک وسیع ایجنڈے کا خواہاں تھا اور دونوں کے درمیان یہ اختلاف ان مذاکرات کی منسوخی کی وجہ بنا۔

بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج نے پاکستانی حکومتی کو الٹی میٹم دیا تھا کہ وہ اگلے چند گھنٹوں میں یہ فیصلہ کرے کہ آیا وہ صرف اور صرف دہشت گردی کے موضوع پر مذاکرات چاہتا ہے یا نہیں۔ تاہم پاکستان کی جانب سے ان مذاکرات کی منسوخی کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان شرائط کے ساتھ کسی مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بنے گا۔ بھارتی وزارت خارجہ نے اس پاکستانی فیصلے پر ’مایوسی‘ کا اظہار کیا ہے۔